امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 21 اپریل: سید محمد الطاف بخاری نے منگل کے روز اتحادِ گپکار کی موجودہ حیثیت اور اہمیت پر سوال اٹھاتے ہوئے اس کے رہنماؤں سے وضاحت طلب کی کہ آیا یہ اتحاد اب بھی قائم ہے یا نہیں۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بخاری نے فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ سے اتحاد کی بظاہر غیر فعالیت پر جواب مانگا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اس بارے میں صاف اور واضح معلومات ملنی چاہئیں۔
یہ اتحاد دفعہ 370 کی منسوخی سے پہلے قائم کیا گیا تھا، جس میں جموں و کشمیر کی کئی علاقائی سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئیں۔
بخاری نے نیشنل کانفرنس کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت مشکل میں لوگوں کا ساتھ نہیں دیتی۔ انہوں نے ایک حالیہ معاملے کا حوالہ دیا جس میں انسدادِ بدعنوانی ادارہ نے نائب وزیر اعلیٰ کے خاندان سے منسلک جائیداد کے خلاف کارروائی کی۔
عمر عبداللہ کے اس بیان پر کہ وہ بعض معاملات میں بے اختیار ہیں، بخاری نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی فیصلے اس کے برعکس اشارہ دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی دونوں پر الزام لگایا کہ وہ نوجوانوں کے خلاف درج مقدمات اور ریاستی درجہ کی بحالی جیسے عوامی مسائل کو نظر انداز کر رہی ہیں اور صرف سیاسی تماشہ کر رہی ہیں۔
بخاری نے کہا کہ ان کی جماعت سچائی کے ساتھ کھڑی ہے اور سچ اور جھوٹ اکٹھے نہیں ہو سکتے۔





