28ویں شبِ رمضان المبارک، 17 مارچ 2025، وادیٔ کشمیر کی روحانی تاریخ میں ایک یادگار اور ناقابلِ فراموش رات کے طور پر ثابت ہو گئی، جب سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نمازِ تراویح کے دوران ختمِ قرآن کی بابرکت محفل منعقد ہوئی۔
رات کی فضا میں ہلکی سی خنکی تھی، جو گزشتہ ایام کے مقابلے میں زیادہ محسوس ہو رہی تھی، مگر اس سردی کے باوجود ایمان کی حرارت نے ہر دل کو گرمائے رکھا۔ تقریباً پانچ سو فرزندانِ توحید مسجد میں جمع ہوئے اور نمازِ عشاء کے بعد تراویح کا آغاز نہایت سکون اور وقار کے ساتھ ہوا۔
ابتدا میں ماحول حسبِ معمول تھا، لیکن جیسے جیسے تلاوتِ کلامِ پاک آگے بڑھتی گئی، ویسے ویسے دلوں پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہونے لگی۔ جب حافظِ قرآن سورۃ القدر کی تلاوت پر پہنچے تو ان کی آواز میں لرزش نمایاں ہو گئی۔ خود ان کی آنکھیں اشکبار ہوئیں اور مقتدیوں کے دل بھی پگھل گئے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہر لفظ براہِ راست دلوں میں اتر رہا ہو۔
ہر رکعت کے ساتھ جذبات کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا، اور مسجد کا ماحول آہ و زاری اور گریہ و زاری سے بھر گیا۔ اس روح پرور کیفیت نے اپنے عروج کو اس وقت پہنچا جب سورۃ اذا جاء نصر اللہ اور سورۃ تبت یدا کی تلاوت کی گئی۔ اس لمحے مسجد میں موجود ہر فرد اشکبار تھا؛ آنسوؤں کی روانی ایسی تھی کہ کسی کے لیے خود پر قابو رکھنا ممکن نہ رہا۔
آخرکار، جب قرآنِ مجید کی تکمیل ہوئی تو ایک گہری روحانیت اور سکون کی لہر فضا میں پھیل گئی۔ حافظ صاحب نے نہایت رقت آمیز اور دل سوز دعا کے ساتھ اس بابرکت محفل کا اختتام کیا۔ اس دعا میں عاجزی، خشوع اور امتِ مسلمہ کے لیے خیر و بھلائی کی سچی تڑپ نمایاں تھی۔
یہ رات نہ صرف ایک عبادت کا اختتام تھی بلکہ ایمان کی تجدید، آنسوؤں کی زبان میں کی گئی ایک خاموش دعا، اور اللہ سے تعلق کی ایک نئی شروعات بھی تھی—ایک ایسی رات جو اہلِ کشمیر کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی اور تاریخ کے اوراق میں روحانیت کی روشن مثال کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔




