امت نیوز ڈیسک //
تہران: ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے امریکی عوام کے نام ایک کھلا خط جاری کر کے پوچھا کہ کیا مشرق وسطیٰ کی جنگ "امریکہ فرسٹ” کے مطابقت رکھتی ہے؟ انہوں نے ٹرمپ کے قوم کے نام پہلے خطاب سے قبل یہ پیغام جاری کر کے امریکہ پر جنگی جرائم اور اسرائیل کی پراکسی ہونے کا الزام عائد کیا۔
پیزشکیان نے بدھ کو اپنی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک کھلے خط میں کہا کہ "ایران کے اہم بنیادی ڈھانچوں بشمول توانائی اور صنعتی سہولیات پر حملہ کرنا براہ راست ایرانی عوام کو نشانہ بنانا ہے۔”
"جنگی جرم کے ارتکاب کے علاوہ، اس طرح کی کارروائیوں کے ایسے نتائج برآمد ہوتے ہیں جو ایران کی سرحدوں سے باہر تک پھیل جاتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایسے حملے "عدم استحکام، انسانی اور معاشی اخراجات میں اضافہ” کرتے ہیں، اور "ایسی دشمنی کے بیج بوتے ہیں جو برسوں تک برقرار رہے گی”۔
انہوں نے امریکی عوام استفسار کیا کہ "اس جنگ سے امریکی عوام کے اصل مفادات میں سے کون سا کام ہو رہا ہے؟” تنازع کو دونوں فریق کے لیے مہنگا قرار دیتے ہوئے پیزشکیان نے کہا کہ "ایران کبھی جنگ کا آغاز نہیں کیا” البتہ ان کے ملک نے قبضے اور حملوں کا سامنا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو جان بوجھ کر خطرہ بنا کر پیش کیا گیا تاکہ فلسطینیوں کے خلاف ‘جنگی جرائم’ سے توجہ ہٹائی جا سکے اور اسلحے کے کاروبار اور اسٹریٹجک منڈیوں پر کنٹرول رکھا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ پر ٹرمپ کا قوم سے خطاب ، کہا امریکہ نے ایران میں ‘تیز، فیصلہ کن، زبردست فتوحات’ حاصل کیں
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن "اسرائیل کے لیے ایک پراکسی کے طور پر اس جنگ میں شامل ہوا۔ پیزیشکیان نے پوچھا کہ "کیا ‘امریکہ فرسٹ’ واقعی آج امریکی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے؟” ۔
ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ "بار بار کی غیر ملکی مداخلتوں اور دباؤ کے باوجود” ایران امریکی عوام کا کبھی دشمن نہیں رہا۔ ان کا یہ خط امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پرائم ٹائم خطاب سے پہلے آیا۔
پیزیشکیان نے مزید کہا کہ ایران قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ ایران نے جدید تاریخ میں کبھی بھی جارحیت کا آغاز نہیں کیا، مگر ہاں، ایران کے خلاف مسلط کی جانے والی جارحیت کا جواب ضرور دیا اور جابر قوتوں کے سامنے کبھی سر نہیں جھکایا۔
28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کی وجہ سے اب تک یہ جنگ پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل چکی ہے، جس سے ایک وسیع عالمی اقتصادی بحران پیدا ہو گیا ہے۔
ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے چل رہی جنگ پر امریکی صدر ٹرمپ نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ ایران کے ‘نئے صدر’ نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ وہ جنگ بندی پر صرف اسی وقت غور کریں گے جب آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
وہیں تہران نے امریکی صدر کے ‘جنگ بندی کی درخواست’ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ‘جھوٹا اور بے بنیاد’ قرار دیا۔






