امت نیوز ڈیسک //
واشنگٹن: امریکہ نے ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق تمام ایرانی بندرگاہوں میں داخل اور خارج ہونے والے جہازوں کو روکا جائے گا۔
یو ایس سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ یہ ناکہ بندی پیر کے روز واشنگٹن کے وقت کے مطابق صبح 10 بجے سے شروع ہوگی۔ تاہم اس بات کی وضاحت بھی کی گئی ہے کہ آبنائے ہرمز سے دیگر ممالک کی بندرگاہوں کی جانب آنے جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔
اس سے قبل ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا عمل شروع کرے گی۔ انہوں نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے کیلئے تیار نہیں اور عالمی بحری راستے کو کھولنے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان میں ہونے والے طویل مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ وانس ، جو امریکی وفد کی قیادت کر رہے تھے، نے کہا کہ امریکہ نے ایک حتمی تجویز پیش کی ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران اسے قبول کرتا ہے یا نہیں۔
یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران کے خلاف کارروائی کے بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تقریباً معطل ہو چکی ہے، جس سے عالمی منڈیوں اور سپلائی چین پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی اہم بحری راستے سے ہوتی ہے، جس کی بندش سے توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔





