امت نیوز ڈیسک //
فرانس کے شہر ایویان میں جاری جی 7 سربراہی اجلاس کے موقع پر آج وزیرِاعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم دوطرفہ ملاقات متوقع ہے۔ دونوں رہنما مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، آبنائے ہرمز میں کشیدگی، بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے، توانائی کی سلامتی اور ٹیکنالوجی تعاون سمیت مختلف امور پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
اجلاس کے دوران وزیرِاعظم مودی نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں رکاوٹوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں بعض بھارتی شہریوں کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا۔
جی 7 ممالک کے رہنماؤں نے یوکرین کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے روس پر دباؤ بڑھانے پر اتفاق کیا، جبکہ افریقہ میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے مشترکہ عالمی اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
مودی نے اجلاس کے موقع پر کینیڈا، جاپان، جنوبی کوریا، مصر اور کینیا کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں اور باہمی تعاون بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا۔
جی 7 اجلاس 15 سے 17 جون تک فرانس میں جاری رہے گا، جہاں عالمی سلامتی، اقتصادی استحکام اور مصنوعی ذہانت سمیت اہم بین الاقوامی مسائل زیرِ بحث ہیں۔






