امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 25 دسمبر: عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) کے چیف ترجمان انعام النبی نے جمعرات کو کہا کہ بارہمولہ سے رکنِ پارلیمنٹ انجینئر رشید نے ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کے وزرائے اعلیٰ کو دو تفصیلی اور سخت الفاظ پر مبنی خطوط ارسال کیے ہیں، جن میں ان ریاستوں میں کشمیری شال فروشوں پر ہونے والے حملوں اور ان کی تذلیل کے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور مثالی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
انعام النبی کے مطابق یہ خطوط پارٹی کو جیل میں بند رکنِ پارلیمنٹ کے قانونی مشیر کے ذریعے موصول ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انجینئر رشید نے ٹی وی چینلوں پر نشر ہونے والی ان ویڈیوز پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا ہے، جن میں کشمیری شال فروشوں کو بعض شرپسند عناصر کی جانب سے تشدد اور تذلیل کا نشانہ بنتے دکھایا گیا۔ انجینئر رشید نے ان واقعات کو ایک جمہوری ملک میں انتہائی تشویشناک اور ناقابلِ قبول قرار دیا۔
ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ کو لکھے گئے خط کا حوالہ دیتے ہوئے انعام النبی نے کہا کہ انجینئر رشید نے ریاست کی دیرینہ رواداری اور سیکولر اقدار کی شہرت کو یاد دلایا اور خبردار کیا کہ ایسے واقعات اس شبیہ کو بری طرح مجروح کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر جموں و کشمیر میں غیر کشمیریوں کے خلاف ایسے واقعات پیش آتے تو کیا خاموشی اختیار کی جاتی؟ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں اس طرح کے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت قوانین کے تحت کارروائی کی جاتی اور انہیں انتہاپسند قرار دیا جاتا۔ انجینئر رشید نے متنبہ کیا کہ مسلسل بے عملی شمولیت اور رواداری کے دعوؤں پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے اور متاثرین سمیت جموں و کشمیر کے عوام کی خودداری کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔
اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ کو بھیجے گئے خط کے بارے میں انعام النبی نے کہا کہ انجینئر رشید نے اپنی پارلیمانی حلقے سے تعلق رکھنے والے ایک کشمیری شال فروش پر حملے کو تکلیف دہ اور نہایت افسوسناک قرار دیا۔ خط میں انہوں نے سوال کیا کہ کیا ملک میں کشمیری ہونا جرم بن چکا ہے؟ انہوں نے اتراکھنڈ حکومت کو یاد دلایا کہ کشمیر میں تاریخی طور پر سیاحوں اور باہر سے آنے والوں کے ساتھ عزت و احترام کا برتاؤ کیا جاتا رہا ہے، پھر دیگر ریاستوں میں انہی اقدار کو کیوں پامال کیا جا رہا ہے۔
انجینئر رشید نے دونوں خطوط میں قصورواروں کے خلاف سخت اور مثالی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی شخص الٹرا نیشنلزم کے نام پر قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لے۔ انہوں نے ریاستی حکومتوں سے یہ بھی اپیل کی کہ جموں و کشمیر سے باہر کام کرنے والے کشمیری تاجروں کی سلامتی، عزت اور روزگار کو یقینی بنایا جائے۔
ان خطوط کی نقول مرکزی وزارتِ داخلہ کے سکریٹری کو بھی ارسال کی گئی ہیں، تاکہ ملک کے مختلف حصوں میں تعلیم حاصل کرنے یا روزگار کے لیے مقیم کشمیریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری مداخلت کی جا سکے۔








