امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 9 فروری:جموں و کشمیر حکومت نے پیر کے روز قانون ساز اسمبلی کو مطلع کیا کہ یونین ٹیریٹری میں مجموعی بے روزگاری کی شرح 6.7 فیصد ہے، جو کہ ملک کی قومی اوسط 3.5 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔
ایم ایل اے مبارک گل کی جانب سے اٹھائے گئے ایک ستارے دار سوال کے تحریری جواب میں حکومت نے بتایا کہ پیریاوڈک لیبر فورس سروے (PLFS) کے مطابق جموں و کشمیر میں 15 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد میں بے روزگاری کی شرح گزشتہ چند برسوں کے دوران اتار چڑھاؤ کے باوجود مسلسل قومی اوسط سے زیادہ رہی ہے۔
ایوان کو مزید بتایا گیا کہ مشن یووا کے تحت محکمہ محنت و روزگار اور یو ٹی انتظامیہ کے اشتراک سے ایک بنیادی سروے کیا گیا، جس میں 18 سے 60 سال کی عمر کے 4.73 لاکھ افراد کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں سے 46.8 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ اس وقت کام نہیں کر رہے لیکن کام کرنے کے خواہشمند ہیں، جو بالخصوص نوجوانوں میں روزگار کے سنگین چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے۔
بے روزگاری سے نمٹنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے متعلق سوالات کے جواب میں حکومت نے کہا کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنا، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے، حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حکومت نے واضح کیا کہ توجہ صرف قلیل مدتی ملازمتوں پر نہیں بلکہ پائیدار ذریعہ معاش پیدا کرنے پر مرکوز ہے، تاکہ نوجوان ملازمت کے خواہشمند کے بجائے ملازمت فراہم کرنے والے بن سکیں۔
حکومت نے مشن یووا کو ایک انقلابی اقدام قرار دیا، جس کا مقصد جموں و کشمیر میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ مشن کے آغاز کے بعد اب تک یووا پلیٹ فارم پر تقریباً 70 ہزار درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔
ان میں سے 52,875 درخواست گزاروں کے لیے ڈیٹیلڈ پروجیکٹ رپورٹس (DPRs) اسمال بزنس ڈیولپمنٹ یونٹس (SBDUs) کے ذریعے تیار کی گئیں۔ بینکوں کی جانچ کے بعد 47,816 درخواستوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 16,141 کیسز کو منظوری دی جا چکی ہے۔ حکومت کے مطابق تقریباً 9,500 درخواستیں اہلیت اور کریڈٹ سے متعلق مسائل کے باعث مسترد کی گئیں، جبکہ باقی کیسز مختلف مراحل میں زیرِ التوا ہیں۔
حکومت نے بتایا کہ منظور شدہ مستفیدین کو ہینڈ ہولڈنگ سپورٹ، تربیت اور رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے۔ اب تک 7,300 سے زائد کاروباری افراد اپنی تربیت مکمل کر چکے ہیں، جبکہ دیگر اس وقت صلاحیت سازی کے پروگراموں میں شامل ہیں۔
محکمہ محنت و روزگار نے گزشتہ دو مالی برسوں کے دوران مختلف خود روزگاری اور کاروباری اسکیموں، جن میں مشن یووا، ممکن، تیجسونی، اسپرنگ انٹرپرینیورشپ اسکیم اور خواتین انٹرپرینیورشپ پروگرام شامل ہیں، کے تحت مستفیدین کی سال بہ سال تفصیلات بھی ایوان میں پیش کیں۔
جواب محکمہ محنت و روزگار کے وزیر انچارج کی جانب سے ایوان میں پیش کیا گیا، جنہوں نے کہا کہ یہ مشن پر مبنی حکمتِ عملی یونین ٹیریٹری میں جامع ترقی اور طویل مدتی روزگار کے مواقع کو یقینی بنانے کے لیے وضع کی گئی ہے۔ (کے این سی)






