امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 5 مارچ: حکام نے جمعہ کے روز پورے کشمیر میں احتیاطی اقدام کے طور پر سخت پابندیاں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سکیورٹی اداروں کے حکام نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ یہ فیصلہ خطے میں امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے، خاص طور پر اس ہفتے کے آغاز میں بعض علاقوں میں ہونے والے مظاہروں کے بعد۔
حکام کے مطابق حساس علاقوں میں نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد رہیں گی جبکہ اہم شہروں میں سکیورٹی فورسز کی اضافی تعیناتی کی جائے گی۔
ایک سینئر افسر نے کہا کہ پابندیوں میں نرمی کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ جمعہ کی نماز کے بعد صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔
انتظامیہ نے یہ بھی بتایا کہ وادی بھر میں انٹرنیٹ سروس بدستور صرف 2G رفتار تک محدود رہے گی جبکہ پری پیڈ موبائل کنکشنز پر کالنگ سروس معطل رہے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عارضی ہیں اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ افواہوں یا غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گئے ہیں۔
ایک سینئر افسر کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور زمینی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ فیصلے کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ اتوار کی شام حکام نے اس وقت پابندیاں عائد کی تھیں جب خامنہ ای کی وفات کی خبر کے بعد وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے رپورٹ ہوئے تھے۔





