امت نیوز ڈیسک //
حیدرآباد: ایرانی جنگی جہاز ‘فریگیٹ آئی آر آئی این ایس ڈینا’ مشرقی بھارت کی ایک بندرگاہ پر بحری مشقوں کے بعد واپس ایران جا رہا تھا، اسی بیچ امریکہ نے بحر ہند میں اس پر حملہ کر کے ڈبو دیا۔ یہ حملہ خلیج سے سیکڑوں میل دور بحر ہند میں ہوا۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں کہا کہ "ایک امریکی آبدوز نے ایرانی جنگی بحری جہاز کو ڈبو دیا جو کہ بین الاقوامی پانیوں میں خود کو محفوظ سمجھ رہا تھا۔ امریکی آبدوز نے اسے خاموش موت دیتے ہوئے ٹارپیڈو سے غرقاب کر دیا گیا۔”
ایرانی عملہ امریکی تارپیڈو کے ٹکرانے سے کچھ دن پہلے ہی وشاکھاپٹنم میں تھا۔ ایرانی بحریہ کے اہلکاروں نے یہاں کھانا کھایا اور "میلان 2026” میں درجنوں دیگر ممالک کے اہلکاروں کے ساتھ بحری مشقوں میں حصہ لیا۔ اس دوران بھارتی بحریہ نے باضابطہ اعزاز کے ساتھ ایرانی جہاز اور عملے کا استقبال کیا اور دونوں ملکوں کے بیچ "طویل عرصے سے جاری ثقافتی روابط” کے پیش نظر انہیں دیرینہ ساتھی قرار دیا۔
ان مشقوں کے بعد جب ایرانی جہاز خلیج بنگال سے نکلا تو وہ کسی جنگ میں نہیں جا رہا تھا، وہ ایک دوستانہ بھارتی بندرگاہ سے واپسی کے لیے پُرامن طویل سفر پر تھا۔ اس جہاز پر ہوا حملہ جنگ کو مؤثر طریقے سے بھارت کے سمندروں تک کھینچ لایا ہے۔ ایک ایسے بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا جو بھارتی حکومت کا مہمان تھا، اس سے تنازعے کی بازگشت خلیج فارس سے سیکڑوں میل دور اور بحر ہند کے غیر جانبدار، حساس پانیوں تک پہنچ گئی۔
امریکہ نے اس حملے کو ایرانی بحری جہاز کے لیے ایک خاموش موت قرار دیا۔ یہ واقعہ سری لنکا کے سرچ اینڈ ریسکیو زون کے اندر ہوا۔ اس حملے کے بعد اس پانی میں تیل خون تیر رہا ہے جہاں صرف تجارت اور سفارت کاری ہونی چاہیے تھی۔
بھارت کے زیر اہتمام دو سالہ کثیرالجہتی بحری مشق کی ویب سائٹ پر ‘آئی آر آئی این ایس ڈینا’ کا نام مشق میں حصہ لینے والے جہاز طور پر درج ہے۔ بھارت کے لیے اسے ڈبویا جانا ایک کڑوی حقیقت اور حساس معاملہ ہے۔ اس سے ملک کے آس پاس کے پانیوں اور اس کے مہمانوں کی حفاظت پر سوال اٹھ گیا ہے۔ بین الاقوامی مہمانوں کے لیے ایک ٹرانزٹ روٹ اب قبرستان میں تبدیل ہو گیا ہے۔
بھارتی بحریہ کی مشرقی بحریہ کمان نے 17 فروری کو ایکس کو ایک پوسٹ میں ایرانی جنگی جہاز اور اس کے افسران کی تصاویر کے ساتھ لکھا کہ "بھارتی بحریہ نے وشاکھاپٹنم پہنچنے پر ایرانی بحریہ کی ‘آئی آر آئی ایس ڈینا’ کا خیرمقدم کیا… یہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ ثقافتی روابط کی عکاسی کرتا ہے۔”
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی افواج کے فضائی حملے ایران پر مسلسل جاری ہیں۔ وہیں تہران مشکل حالات میں ہونے کے باوجود میزائل اور ڈرون حملوں سے سخت جوابی کارروائی کر رہا ہے۔





