امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کی ایک عدالت نے ایچ ڈی ایف سی بینک کے پانچ ملازمین کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ ان ملازمین کو ایک بڑے گھوٹالے کے معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے، جس کی تحقیقات جموں و کشمیر پولیس کی کرائم برانچ کی اکنامک آفینسز وِنگ کر رہا ہے۔
گرفتار کیے گئے افراد میں عادل ایوب گنائی ساکن میمندر شوپیان، عرفان مجید زرگر ساکن بونی گام شوپیان، مبشر حسین شیخ ساکن کرینہ کولگام، زید منظور ساکنہ ڈاگرپورہ کھنہ بل، اننت ناگ اور جاوید احمد بٹ ساکنہ راجپورہ، پلوامہ شامل ہیں۔
حکام کے مطابق ان پانچوں کو شوپیاں میں ایچ ڈی ایف سی بینک کی ایک شاخ میں مبینہ مالی دھوکہ دہی کی تحقیقات کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔ اس وقت انہیں سنٹرل جیل سرینگر میں عدالتی حراست میں رکھا گیا ہے۔
سماعت کے دوران اکنامک آفینسز ونگ، کشمیر کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر وسیم احمد شاہ نے ضمانت کی درخواستوں کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے دلیل دی کہ "اس معاملے میں مالی بے ضابطگیوں کا سنگین معاملہ شامل ہے، جس کی بنیاد پر ضمانت منظور نہیں کی جانی چاہئے۔”
دلائل سننے اور کیس کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد چیف جوڈیشل مجسٹریٹ شوپیان کی عدالت نے ایف آئی آر نمبر 30/2025 میں ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔
پولیس کے مطابق یہ مقدمہ بھارتیہ نیاے سنہتا کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 66(C) بھی شامل ہے۔ یہ کیس پولیس اسٹیشن ای او ڈبلیو، کشمیر میں درج ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کرائم برانچ کی اکنامک آفینسز ونگ اس معاملے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے اور مبینہ مالی دھوکہ دہی کی منصفانہ اور شفاف جانچ کو یقینی بنانے کے لیے کام کر ہی ہے۔





