امت نیوز ڈیسک //
لداخ، 5 مارچ: کویندر گپتا نے لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے تقریباً نو ماہ قبل 18 جولائی 2025 کو اس عہدے کا حلف اٹھایا تھا اور وہ لداخ کے تیسرے لیفٹیننٹ گورنر تھے۔
ان کے دورِ اقتدار کے دوران لداخ میں احتجاجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سماجی تنظیمیں جیسے Leh Apex Body اور Kargil Democratic Alliance مسلسل مظاہرے کر رہی تھیں اور لداخ کو ریاست کا درجہ دینے، چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظ اور مقامی باشندوں کے لیے ملازمتوں میں ریزرویشن کا مطالبہ کر رہی تھیں۔
ستمبر 2025 میں یہ احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب لیہہ میں ریاستی درجے کے مطالبے سے جڑے مظاہرے پرتشدد ہو گئے۔ جھڑپوں کے دوران پولیس فائرنگ میں چار مظاہرین ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے، جس کے بعد علاقے کے بعض حصوں میں کرفیو اور سخت سکیورٹی پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔
یہ احتجاجی تحریک اس وقت شروع ہوئی تھی جب 2019 میں جموں کشمیر کی سابقہ ریاست کو تقسیم کر کے لداخ کو الگ یونین ٹیریٹری بنایا گیا اور اسے براہِ راست مرکزی حکومت کے زیرِ انتظام کر دیا گیا۔ اس کے بعد سے خطے میں زیادہ سیاسی خودمختاری اور آئینی تحفظات کے مطالبات زور پکڑتے رہے ہیں۔
کویندر گپتا کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لداخ کے انتظامی مستقبل اور آئینی حیثیت کے حوالے سے سیاسی بحث اور عوامی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں۔





