امت نیوز ڈیسک //
جموں، یکم اپریل:بشیر احمد ویری، جو کہ نیشنل کانفرنس سے تعلق رکھتے ہیں، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ریزرویشن پالیسی پر گفتگو کے دوران جذباتی ہو گئے اور اوپن میرٹ طلبہ کے لیے انصاف کی اپیل کی۔
اسمبلی اجلاس کے دوران ڈاکٹر ویری نے حکومت اور اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ ریزرویشن نظام کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے اور اوپن میرٹ امیدواروں کے لیے نشستوں کا تناسب متوازن کیا جائے۔ ان کی تقریر کے دوران ایوان میں مکمل خاموشی چھا گئی، جس سے معاملے کی سنجیدگی واضح ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دنوں سے وہ سو نہیں سکے کیونکہ طلبہ اور ان کے خاندانوں کی پریشانیوں نے انہیں شدید ذہنی دباؤ میں رکھا ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں میں بڑھتی مایوسی تشویشناک ہے اور ان کے اپنے بچوں نے بھی کشمیر واپس آنے سے ہچکچاہٹ ظاہر کی ہے۔
ڈاکٹر ویری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے پر فوری طور پر بل پیش کیا جائے اور اگر ضرورت پڑے تو اسے سلیکٹ کمیٹی کے سپرد کیا جائے تاکہ جامع اور منصفانہ حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے رول 17 اور اقتصادی طور پر کمزور طبقات سمیت مختلف زمروں میں پائے جانے والے تفاوت پر بھی نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا۔
واضح رہے کہ انہوں نے اس سے قبل وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی رہائش گاہ کے باہر ہونے والے احتجاج میں شرکت نہیں کی تھی اور معاملہ اسمبلی کے اندر آئینی طریقے سے اٹھانے کو ترجیح دی تھی۔
ارکانِ اسمبلی کے مطابق ان کی جذباتی تقریر کے دوران ایوان میں پن ڈراپ سائلنس رہا، جو اس معاملے کی حساسیت اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔





