امت نیوز ڈیسک //
جموں، 31 مارچ: جموں و کشمیر کے ڈپٹی چیف منسٹر سریندر چوہدری نے منگل کے روز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے مطالبہ کیا کہ وہ منتخب عوامی نمائندوں کی سکیورٹی بحال کرنے کے معاملے میں مداخلت کریں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حالیہ دنوں میں کئی ارکانِ اسمبلی کی سکیورٹی میں کمی یا اسے واپس لے لیا گیا ہے، جس پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
اس معاملے پر بات کرتے ہوئے سریندر چوہدری نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر خود مرکزی وزیر رہ چکے ہیں، اس لیے وہ منتخب نمائندوں کی اہمیت اور ان کے کردار کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی کہ سکیورٹی سے متعلق فیصلے کرتے وقت صرف پولیس کی رپورٹوں پر انحصار نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا:“صرف پولیس کی بات نہ سنیں، عوامی نمائندوں کو مناسب سکیورٹی فراہم کی جائے۔”
یہ پیش رفت اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں کئی ارکانِ اسمبلی نے اپنی سکیورٹی میں تبدیلیوں پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
ڈپٹی چیف منسٹر نے سکیورٹی کی تقسیم میں مبینہ تضادات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بعض ایسے افراد کو بھی سکیورٹی دی جا رہی ہے جن کی عوامی سطح پر کوئی خاص پہچان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:“پولیس نے ایسے لوگوں کو بھی سکیورٹی فراہم کی ہے جنہیں ان کے پڑوسی بھی نہیں جانتے۔”
سریندر چوہدری نے ریٹائرڈ سینئر پولیس افسران کی سکیورٹی پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ سابق ڈی جی، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی حضرات بدستور سکیورٹی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، جبکہ ان کی سکیورٹی کا ازسرِ نو جائزہ نہیں لیا جا رہا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر بھی پالیسی کے مطابق نظرِ ثانی کی جائے۔




