امت نیوز ڈیسک //
واشنگٹن، 15 اپریل: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں اور اطلاعات کے مطابق مذاکرات کا دوسرا دور پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر وانس ممکنہ طور پر امریکی وفد کی قیادت کریں گے، جبکہ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی مذاکرات میں شریک ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکا نے اپنے تین سینئر مشیروں کو ایران کے ساتھ سفارتی راستہ تلاش کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ حالیہ 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں، تاہم ابھی تک مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ مستقبل کے مذاکرات زیر غور ہیں لیکن فی الحال کوئی شیڈول طے نہیں ہوا۔
ادھر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ دو دنوں میں اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت جاری ہے لیکن سست روی کا شکار ہے۔ ابتدا میں یورپ میں مذاکرات کا امکان ظاہر کیا گیا تھا، تاہم بعد میں اسلام آباد کو زیادہ موزوں مقام قرار دیا گیا۔
ٹرمپ نے پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کارکردگی کی وجہ سے اسلام آباد میں مذاکرات کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ خود ان مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کہا کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہتے اور 20 سالہ یورینیم افزودگی کی معطلی کے خیال سے بھی مطمئن نہیں۔
دوسری جانب پاکستانی ذرائع کے مطابق ایران نے یورینیم افزودگی کے معاملے پر کچھ لچک دکھائی ہے، تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ افزودگی کا مکمل خاتمہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔



