اننت ناگ: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ضلع رام. بن میں پیش آئے افسوسناک واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں کسی بھی صورت جنگل راج قائم نہیں ہونے دیا جائے گا۔
اننت ناگ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ نہایت افسوسناک ہے اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر خطے میں امن و امان کو خراب کرنا چاہتے ہیں، تاہم حکومت ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر میں غنڈہ گردی اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عام شہریوں اور خانہ بدوش افراد کو نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت ہے، اور سوال اٹھایا کہ ایسے عناصر کو کھلی چھوٹ کس نے دی ہے۔
انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ رامبن کے سب ڈویژن رامسو کے مکرکوٹ علاقے میں پیش آیا، جہاں 22 سالہ نوجوان تنویر احمد چوپان لاپتہ ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق وہ مبینہ طور پر حملہ آوروں سے بچنے کے لیے نالے میں چھلانگ لگا بیٹھے۔ وہ جموں سے اپنے آبائی گاؤں منڈکھل پوگل جا رہے تھے اور ان کے ساتھ مویشی بھی تھے۔
واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، جبکہ عوامی و سماجی حلقوں نے شفاف تحقیقات، ذمہ داران کو سزا اور متاثرہ خاندان کو فوری انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔



