امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: حکام نے پیر کے روز تصدیق کی کہ پارلیمانی کمیٹیوں کے وفود 10 مئی سے جموں و کشمیر کا دورہ کرے گا، تاکہ یونین ٹیریٹری میں سکیورٹی اور ترقی کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ رادھا موہن داس اگروال کی سربراہی میں وفود میں داخلہ امور کی کمیٹی بھی شامل ہے۔
ممکنہ طور پر ان کمیٹیوں کی جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، سینئر سول اور پولیس افسران، جن میں چیف سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس شامل ہیں، کے ساتھ ملاقات متوقع ہے۔ اس کے علاوہ کاروباری اور سیاحتی شعبے کے نمائندوں سے بھی بات چیت کی جائے گی۔ حکام کے مطابق "اس مشق کا مقصد مختلف فریقوں سے رائے لینا اور زمینی صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔”
ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "کئی پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹیاں اگلے ماہ یونین ٹیریٹری کا دورہ کریں گی۔” انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس ختم ہو چکا ہے اور مئی کے وسط سے کمیٹیوں کے دورے طے ہیں۔ داخلہ امور کی کمیٹی 11 سے 15 مئی کے دوران لداخ کا بھی دورہ کرے گی۔ اس کمیٹی کا دورہ اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس میں عائلی سکیورٹی، انسداد دہشت گردی، سرحد پر دراندازی اور امن و قانون کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
دیگر کمیٹیاں ترقیاتی امور کا جائزہ لیں گی، جن میں مرکزی سرکار کی اسکیموں کا زمینی سطح پر نفاذ اور نچلی سطح کی حکمرانی جیسے پنچایتی راج اداروں کی کارکردگی شامل ہے۔
عارضی شیڈول کے مطابق داخلہ امور کی کمیٹی کٹرا سے اپنا دورہ شروع کرے گی اور شری ماتا ویشنو دیوی شرائن پر آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لے گی۔ اس کے بعد سرینگر میں وزارت داخلہ اور یونین ٹیریٹری انتظامیہ کے حکام سے ملاقات ہوگی، جہاں حکمرانی، ترقی اور فلاحی اقدامات پر بات چیت کی جائے گی۔ کمیٹی معروف سیاحتی مقامات گلمرگ اور سونہ مرگ جیسے صحت افزا مقامات کا بھی دورہ کرے گی تاکہ سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جا سکے۔ دورے کا اختتام کرگل میں ہوگا، جہاں سرحدی سکیورٹی کا جائزہ لیا جائے گا اور بھارتی فوج کے نمائندوں سے ملاقات ہوگی۔
اس سے قبل بھی اسی ماہ کچھ پارلیمانی کمیٹیاں جموں و کشمیر کا دورہ کر چکی ہیں اور مختلف علاقوں میں عوام اور حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ حالیہ برسوں میں بھی 2019 کی آئینی تبدیلیوں کے بعد سکیورٹی اور ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے کے لیے وقفے وقفے سے ایسے دورے ہوتے رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ "ان دوروں کا مقصد وادی میں سیاحتی سیزن کے آغاز کے ساتھ معمول کی زندگی اور استحکام کا پیغام دینا بھی ہے۔”





