امت نیوز ڈیسک //
ادھمپور: صوبہ جموں کے ادھم پور ضلع میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جموں کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے پہلگام حملے کی پہلی برسی پر گہری ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ پورا خطہ اُن متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہے جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا۔
عمر عبداللہ نے زور دیا کہ "مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ نہیں ہونے چاہئیں۔ اس کے لیے ریاستی اور مرکزی حکومتوں کو مل کر سخت اور مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔” انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے گرمیوں میں سیاح بڑی تعداد میں جموں و کشمیر آئیں گے، جس سے دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط پیغام جائے گا۔
عمر عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار ادھم پور کے رام نگر علاقے میں چند روز قبل پیش آئے سڑک حادثے میں ہوئے زخمیوں سے ملاقات کے بعد میڈیا نمائندوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کے دوران کیا۔
زخمیوں کے ساتھ ملاقات
عمر عبداللہ نے زخمی ہوئے افراد کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "یہ حادثہ بس مالک کی لاپرواہی کی وجہ سے پیش آیا۔ اصل ڈرائیور چھٹی پر تھا اور گاڑی ایک ایسے شخص کو دے دی گئی جو پہلے ٹرک چلاتا تھا۔”
انہوں نے کہا کہ "حکومت ایسے معاملات میں کارروائی کرتی ہے۔ بس کے ریکارڈ میں پندرہ سے زائد چالان پہلے ہی درج تھے۔ اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور رپورٹ آنے کے بعد اس پر عمل ہوگا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "سڑک کی حالت اچھی تھی، مسئلہ ڈرائیوروں کی سوچ ہے۔ غلط سائیڈ پر چلانا، تیز رفتاری اور اوورلوڈنگ جیسے عوامل حادثات کی وجہ بنتے ہیں۔ حکومت اپنی ذمہ داری نبھائے گی، مگر بس مالکان اور ڈرائیوروں کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔”
ایران۔امریکہ کشیدگی اور مذاکرات
اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کو ایران کی جانب سے مسترد کرنے پر وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ایران میں جنگ نہیں ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس تنازع کے اصل اسباب کا بہتر جواب امریکہ یا اسرائیل جیسے ممالک دے سکتے ہیں، مگر جنگ کا خاتمہ ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ "اس تنازع نے عالمی معیشت، خاص طور پر یورپ پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ بھارت پر اس کا اثر محدود رہا، البتہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ پڑوسی ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں اور پاکستان کو بھی ایندھن کے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کا حل پرامن طریقے سے اور مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔






