امت نیوز ڈیسک //
جموں، 9 مئی : جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے قائد حزب اختلاف سنیل شرما کے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے جس میں انہوں نے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کو ’’وینٹی لیٹر سپورٹ‘‘ پر قرار دیا تھا۔ چودھری نے کہا کہ موجودہ حکومت آئینِ ہند کے تحت عوام کی منتخب کردہ حکومت ہے، نہ کہ کسی کی نامزد کردہ۔
جموں میں ایک پولی ٹیکنک اور آئی ٹی آئی ادارے کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی توجہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لیے فنی تعلیم اور روزگار کے مواقع کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا، ’’پولی ٹیکنک اور آئی ٹی آئی ادارے ہنر مند نوجوان تیار کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہاں اچھے مضامین اور جدید کورسز متعارف کرائے جائیں تاکہ طلبہ بہتر تعلیم حاصل کریں اور روزگار کے قابل بن سکیں۔‘‘
سریندر چودھری نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ تکنیکی اداروں میں مزید روزگار پر مبنی کورسز شروع کیے جائیں۔
سنیل شرما کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’میں ایسے بیانات پر صرف ہنس سکتا ہوں۔ کبھی کبھی وہ اچھے مذاق بھی کرتے ہیں۔ شاید وہ جموں و کشمیر کے عوام کے اصل مسائل کو نہیں سمجھتے۔‘‘
انہوں نے سابقہ بی جے پی-پی ڈی پی حکومتوں پر الزام عائد کیا کہ گزشتہ 11 سے 12 برسوں کے دوران بے روزگاری میں اضافہ ہوا جبکہ عوامی مسائل کو نظر انداز کیا گیا۔
انہوں نے کہا، ’’آپ کی حکومتوں کے دوران بے روزگاری بڑھی، لیکن آپ نہ بے روزگار نوجوانوں کی بات کرتے ہیں اور نہ ہی اسپتالوں میں بنیادی سہولیات کی کمی کا ذکر کرتے ہیں۔‘‘
نائب وزیر اعلیٰ نے جل جیون مشن پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے باوجود عوام کو پینے کا مناسب پانی فراہم نہیں کیا جا سکا۔
انہوں نے کہا، ’’جل جیون مشن آپ نے شروع کیا، لیکن لوگ آج بھی پانی سے محروم ہیں۔ ہم ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ سابقہ حکومت کے دوران اساتذہ کی اسامیاں منجمد کر دی گئیں، جس سے نوجوانوں کے روزگار کے مواقع متاثر ہوئے۔
آخر میں انہوں نے کہا، ’’ہم نہ نامزد ہیں اور نہ منتخب شدہ افراد میں سے چنے گئے ہیں، بلکہ آئین ہند کے تحت عوام کے منتخب نمائندے ہیں۔‘‘





