امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 30 جون: حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی برائے بڈھال جاوید اقبال چوہدری نے منگل کے روز ڈپٹی وزیراعلیٰ پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ اور عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے اور فنڈز کی تقسیم میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنے والے پارٹی اراکین کے خلاف مخالفین سے ہاتھ ملا لیا ہے۔
نیوز ایجنسی کے این او سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید اقبال چوہدری نے کہا کہ ڈپٹی وزیراعلیٰ کا رویہ آمرانہ اور غیر جمہوری ہے۔ ان کے مطابق 3 جون کو ڈاچی گام میں منعقدہ اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے ڈپٹی وزیراعلیٰ کو فنڈز کی تقسیم میں ہونے والی غلطیوں کو درست کرنے کی ہدایت دی تھی، مگر انہوں نے ان خامیوں کو دور کرنے کے بجائے مخالفین سے اتحاد کر کے ہمیں سبق سکھانے کی کوشش کی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ڈپٹی وزیراعلیٰ ان اراکین اسمبلی کو پارٹی سے نکالنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں جو ان کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔
جاوید اقبال چوہدری نے مزید دعویٰ کیا کہ ضلع راجوری کے لیے مختص ترقیاتی فنڈز کا بڑا حصہ ڈپٹی وزیراعلیٰ کے حلقہ انتخاب نوشہرہ کو منتقل کیا گیا۔ ان کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران SASCI اسکیم کے تحت 33.71 کروڑ روپے کے اخراجات میں سے 21.47 کروڑ روپے صرف نوشہرہ میں خرچ کیے گئے، جبکہ ضلع راجوری کے لیے مختص 9.22 کروڑ روپے بھی اسی حلقے کی طرف منتقل کر دیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ نان فنکشنل بلڈنگز اسکیم کے تحت خرچ ہونے والے 1.28 کروڑ روپے میں سے 1.03 کروڑ روپے بھی ڈپٹی وزیراعلیٰ کے حلقے میں استعمال کیے گئے۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ یو ٹی کیپیکس بجٹ 2025-26 کے تحت تقریباً 200 کروڑ روپے کے ترقیاتی کاموں کو انتظامی منظوری دی گئی، جن میں سے 137 کروڑ روپے مالیت کے پل صرف نوشہرہ میں منظور کیے گئے، جبکہ دیگر اسمبلی حلقوں کے لیے ایک بھی پل منظور نہیں کیا گیا۔
ڈپٹی وزیراعلیٰ کی جانب سے ان الزامات پر فی الحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔





