امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 30 جون: میرواعظ کشمیر نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کشیدگی کے باوجود مذاکرات کی میز پر آ سکتے ہیں تو بھارت اور پاکستان بھی اپنے دیرینہ مسائل، خصوصاً مسئلہ کشمیر، کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔
سرینگر کے ریذیڈنسی روڈ پر ایک افتتاحی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر مذاکرات کی بحالی کی کوششیں خوش آئند ہیں اور وہ ہمیشہ ایسے اقدامات کی حمایت کرتے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ جمعہ جامع مسجد میں اپنے خطاب کے دوران بھی انہوں نے اسی تناظر میں کہا تھا کہ اگر ایران اور امریکہ مذاکرات کر سکتے ہیں تو بھارت اور پاکستان کو بھی تمام تنازعات کے حل کے لیے بات چیت کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں بلکہ مذاکرات ہی پائیدار امن کی بنیاد بنتے ہیں۔
میرواعظ نے کہا کہ برصغیر میں بے پناہ معاشی امکانات اور انسانی وسائل موجود ہیں، تاہم ان سے فائدہ اسی صورت میں اٹھایا جا سکتا ہے جب خطے کی قیادت سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دوستانہ تعلقات ہی دیرینہ مسائل، بشمول مسئلہ کشمیر، کے حل کی بہترین راہ ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ بھارت، پاکستان اور کشمیر کی قیادت امن کے فروغ اور مسائل کے پرامن حل کے لیے مذاکراتی عمل کی حمایت کرے گی۔
اس موقع پر میرواعظ نے کشمیر کے مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) کے تمام ارکان امت کے اتحاد کو مضبوط بنانے پر متفق ہیں۔ اگر کسی بھی وقت مسالک کے درمیان یا کسی ایک مسلک کے اندر غلط فہمیاں پیدا ہوں تو انہیں خیرسگالی اور باہمی مذاکرات کے ذریعے دور کیا جانا چاہیے تاکہ مسلمانوں کے وسیع تر مفاد، شناخت اور اجتماعی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔





