امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 3 جولائی: کشمیر میں مٹن کی قلت کا خدشہ ٹلنے لگا ہے کیونکہ کشمیر مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن نے پنجاب حکومت کی مداخلت کے بعد جمعہ کے روز اپنی جاری ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری معراج الدین نے بتایا کہ انہیں اطلاع دی گئی ہے کہ پنجاب حکومت نے پولیس کو ہدایت جاری کی ہے کہ لائیو اسٹاک سے لدی گاڑیوں کو ناکوں پر نہ روکا جائے، جبکہ مویشی منڈیوں کو بھی سپلائی بحال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا، "ہم نے ہڑتال ختم کر دی ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ پنجاب پولیس کو ہماری گاڑیوں کو ناکوں پر نہ روکنے کی ہدایت دی گئی ہے اور مویشی منڈیوں کو بھی سپلائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔”
معراج الدین نے تاہم کہا کہ ایسوسی ایشن باضابطہ تحریری احکامات کی منتظر ہے، جس کے بعد زمینی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہدایات پر مکمل طور پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ چند روز میں پنجاب سے جموں و کشمیر کے لیے بھیڑوں اور دیگر مویشیوں کی ترسیل معمول کے مطابق بحال ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ کئی روز سے جاری ہڑتال کے باعث پنجاب سے جموں و کشمیر مویشیوں کی آمد متاثر ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں وادی کشمیر میں، خصوصاً شادیوں کے سیزن کے دوران، مٹن کی قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔
اس سے قبل جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس معاملے پر پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان سے رابطہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے مویشی تاجروں کے خلاف کارروائی کو "غیر منصفانہ” قرار دیا تھا اور سپلائی کی جلد بحالی کے لیے مداخلت کی درخواست کی تھی۔






