امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 2 جولائی: چائلڈ ویلفیئر کمیٹی (سی ڈبلیو سی) سری نگر نے بچوں کے حقوق، رازداری اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے میڈیا، صحافیوں، ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرز، وی لاگرز اور عام شہریوں کو بچوں کے انٹرویوز لینے، ویڈیوز بنانے اور انہیں سوشل میڈیا پر پھیلانے سے متعلق سخت احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے۔
کمیٹی کے مطابق حال ہی میں ایک اسکولی بچے کا اسکول کے باہر انٹرویو لیا گیا تھا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بچے کو عوامی تنقید، ذہنی دباؤ اور سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ اسی واقعے کے پیش نظر یہ ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔
ہدایات میں کہا گیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر کسی بھی بچے کا انٹرویو، ویڈیو یا ریکارڈنگ اس انداز میں نہ کی جائے جو اس کے بہترین مفاد، رازداری، عزت، سلامتی یا فلاح کے خلاف ہو۔ اسکولوں کے اندر یا باہر بچوں سے بات چیت یا انٹرویو لینے کے لیے والدین یا سرپرست کی باخبر رضامندی اور جہاں ضروری ہو متعلقہ اسکول انتظامیہ کی پیشگی اجازت لازمی ہوگی۔
کمیٹی نے مزید ہدایت دی ہے کہ بچوں کو سیاسی، متنازع، قانونی یا دیگر حساس معاملات پر رائے دینے کے لیے ہرگز نہ اکسایا جائے، کیونکہ اس سے وہ عوامی تنقید، آن لائن ہراسانی یا ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
سی ڈبلیو سی نے تعلیمی اداروں کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ طلبہ، والدین اور عملے کو میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے محفوظ استعمال سے متعلق آگاہ کریں اور بچوں سے متعلق کسی بھی غیر مجاز میڈیا سرگرمی کی فوری اطلاع چائلڈ ویلفیئر کمیٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں۔
کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی صورت میں معاملہ سائبر پولیس یا دیگر متعلقہ حکام کے سپرد کیا جا سکتا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کے ساتھ قابل اعتراض آن لائن مواد کو بھی ہٹایا جا سکتا ہے۔






