امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور سابق ایم ایل اے عمران انصاری نے تہران میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریب میں شرکت کرکے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ یہ تقریب آج سے شروع ہوئی۔ آیت اللہ خامنہ ای رواں سال 28 فروری کو ایران – امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیل اور امریکہ کے حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔
ایران نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی، سابق وزیر و آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن کے صدر اور پیپلز کانفرنس کے رہنما مولوی عمران رضا انصاری، نیشنل کانفرنس (این سی) کے رکن پارلیمنٹ اور شیعہ رہنما آغا سید روح اللہ مہدی، شیعہ عالم مسرور عباس انصاری اور آغا سید حسن موسوی الصفوی کو بھی مدعو کیا تھا۔
محبوبہ مفتی نے کہا: "میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میں تہران میں موجود ہوں تاکہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر اپنی گہری تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرسکوں۔ وہ ایک ایسے قابل احترام رہنما تھے جنہوں نے حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور مظلوموں کے لیے آواز بلند کی۔”
پیپلز کانفرنس کے مطابق آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن کے صدر مولوی عمران رضا انصاری نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے تابوت کے پاس کھڑے ہو کر انہیں آخری خراج عقیدت پیش کیا۔ پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ غم اور عقیدت سے بھرپور اس موقع پر مولوی انصاری نے آنسوؤں کے ساتھ دعا کی اور مرحوم رہنما کی دین، انصاف، وقار اور ثابت قدمی کے لیے زندگی بھر کی خدمات کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی میراث دنیا بھر کی آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔
محبوبہ مفتی اور عمران انصاری کے برعکس این سی رہنما آغا سید روح اللہ مہدی بھارت میں پہلے سے طے شدہ مصروفیات کی وجہ سے ایران کا سفر نہ کرسکے۔ مسرور عباس انصاری بھی تہران نہ جاسکے کیونکہ انہیں 2017 سے پاسپورٹ جاری نہیں کیا گیا۔ آغا سید حسن موسوی الصفوی کو جمعرات کے روز دہلی ہوائی اڈے سے تہران جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق امیگریشن حکام نے ہوائی اڈے پر ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا۔
آغا سید حسن موسوی الصفوی نے کہا: "ہوائی اڈے پر امیگریشن حکام نے میرا پاسپورٹ ضبط کر لیا۔ میں آج دہلی سے واپس کشمیر جا رہا ہوں۔”
اتحاد المسلمین کے صدر اور شیعہ عالم مسرور عباس انصاری، جو ماضی میں حریت کانفرنس سے بھی وابستہ رہے ہیں، نے کہا کہ مسلسل کوششوں کے باوجود گزشتہ نو برس سے انہیں پاسپورٹ جاری نہیں کیا گیا۔
انہوں نے سماجی رابطہ گاہ ایکس پر لکھا: "اس محرومی نے صرف میرے سفر کو محدود نہیں کیا بلکہ مجھے بے شمار روحانی مواقع سے بھی محروم کر دیا، جن کی تلافی ممکن نہیں۔ آج میرا دل بہت زیادہ غمزدہ ہے۔ مجھے 4 جولائی سے شروع ہونے والی شہید آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات میں شرکت کی دعوت ملی تھی۔ کسی بھی عقیدت مند کے لیے ایسے تاریخی اور جذباتی موقع پر موجود ہونا ایک بہت بڑا اعزاز اور زندگی میں ایک بار ملنے والی سعادت ہوتی۔ لیکن پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے میں اس دعوت پر لبیک نہیں کہہ سکا۔ لاکھوں سوگواروں کے ساتھ دعا میں شریک ہونے، آخری خراجِ عقیدت پیش کرنے اور اس تاریخی الوداع کا حصہ نہ بن سکنا ایسا دکھ ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ یہ غم ساری زندگی میرے ساتھ رہے گا۔”
ان رہنماؤں کو دعوت نامے تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر کے دفتر کے بین الاقوامی تعلقات کے شعبے کے ڈائریکٹر محسن قمی کی جانب سے بھیجے گئے تھے۔
تقریب کی تفصیلات کے مطابق ایران میں 3 جولائی 2026 کو تہران کے گرینڈ مصلیٰ کمپلیکس میں الوداعی تقریب ہوگی، 4 جولائی کو تہران کے سمٹ کانفرنس ہال میں تعزیتی اجلاس منعقد ہوگا، جبکہ 6 جولائی کو تہران میں جنازے کا جلوس برآمد کیا جائے گا۔






