امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، 26 جولائی: مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ ملک، نوجوان اور طلبہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے کسی بھی عہدے سے زیادہ اہم ہیں، اور سابق مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اسی اصول کی عکاسی کرتا ہے۔
امت شاہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دھرمیندر پردھان نے نیٹ پرچہ لیک معاملے پر بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ اور احتجاج کے بعد ہفتے کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
امت شاہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ مودی حکومت ملک کے نوجوانوں کے جذبات کا احترام کرتی ہے اور پرچہ لیک جیسے معاملات کے خلاف مؤثر اصلاحات نافذ کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے پرچہ لیک کے ذمہ دار افراد کو سخت سزا دلانے کے لیے کیے گئے فیصلے قابلِ ستائش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں مکمل یقین ہے کہ ان اقدامات سے نیٹ امتحان میں کامیاب ہونے والے طلبہ کو انصاف ملے گا۔
وزیرِ داخلہ نے دھرمیندر پردھان کی وزارتِ تعلیم میں خدمات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے دورِ وزارت میں قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) پر مؤثر عمل درآمد، مادری زبانوں میں امتحانات کے انعقاد، پی ایم شری اسکولوں کے فروغ، ڈیجیٹل تعلیم، ہنرمندی کی تربیت اور صنعت و تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے نمایاں اقدامات کیے گئے۔
امت شاہ نے مزید کہا کہ امتحانی نظام کو زیادہ جامع اور طلبہ دوست بنانے کے لیے دھرمیندر پردھان کی کوششیں بھی قابلِ ذکر رہیں، اور ان کی وزارت بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔






