امت نیوز ڈیسک //
جموں : جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے منگل کو ہندوارہ سے منتخب رکن اسمبلی سجاد لون کی جانب سے دفعہ 370، دفعہ 35اے اور ریاستی درجہ کی بحالی سے متعلق اسمبلی میں بحث کے مطالبے کی تجویز کو مسترد کر دیا۔
ایوان میں وقفہ سوالات کے بعد سجاد لون نے دفعہ 370، 35اے اور ریاستی درجہ پر ان کی تجویز کردہ بحث کو مسترد کیے جانے سے متعلق استفسار کیا۔ جس پر اسپیکر نے لون کو ان کے چیمبر میں آنے کا مشورہ دیا جہاں انہیں ’’ترامیم کی منظوری نہ ملنے کی وجوہات سے آگاہ کیا جائے گا۔‘‘ تاہم سجاد لون نے اصرار کیا کہ وہ ایک عوامی نمائندہ ہے اور وہ ایوان کے فلور پر ہی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی ترامیم کیوں رد کی گئیں؟
پیپلز کانفرنس (پی سی) کے صدر سجاد لون کی درخواست پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا: ’’جہاں تک دفعہ 370 اور 35اے کا تعلق ہے، ان معاملات پر ایوان میں پہلے ہی بحث ہو چکی ہے اور انہیں دوبارہ زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔ جبکہ ریاستی درجہ کی بحالی کا فیصلہ یونین ٹیریٹری حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، اس لیے اس معاملے کو یہاں نہیں اٹھایا جا سکتا۔‘‘
سجاد لون نے اسپیکر کے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی فیصلے کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ صرف اس نیت کے اظہار کے لیے بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ ’’ایوان جموں کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کا خواہاں ہے۔‘‘
بی جے پی لیڈران کا واک آؤٹ
ادھر، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دو اراکین اسمبلی – راجیو جسروٹیا اور پون گپتا – نے جموں خطے کے لیے سیلابی امداد کی رقوم کی تقسیم میں جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
راجیو جسروٹیا، مانسون سیزن میں سیلاب کے دوران متاثرہ ندی نالوں کی مرمت کے لیے رقوم کی تقسیم سے متعلق نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری کے جواب سے مطمئن نہیں تھے۔ پون گپتا نے دعویٰ کیا کہ حکومت ہند کی جانب سے سیلابی امداد کے طور پر 212 کروڑ روپے دیے گئے، مگر جموں خطے میں ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا، جبکہ دریائے جہلم کی صفائی اور مرمت پر 65 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔
نائب وزیر اعلیٰ کا جواب
اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا: ’’نیشنل کانفرنس کی حکومت کشمیر اور جموں کے درمیان کوئی امتیاز نہیں برتتی۔ ہمیں حکومت ہند سے کوئی فنڈ موصول نہیں ہوا، اور جو بھی رقم خرچ کی گئی وہ مرکز کے زیر انتظام خطے کے حصے سے تھی۔‘‘
اس صورتحال کے باعث ایوان میں ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، بی جے پی اراکین اور نائب وزیر اعلیٰ کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی، جس کے بعد دونوں بی جے پی اراکین نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا.





