امت نیوز ڈیسک //
واشنگٹن/نئی دہلی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ ایک اہم تجارتی معاہدے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت امریکی منڈی میں بھارتی مصنوعات پر عائد ٹیرف کو 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے بدلے بھارت نے روسی تیل کی خریداری ختم کرنے اور تجارتی رکاوٹیں کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ اعلان وزیر اعظم نریندر مودی سے ٹیلی فونک بات چیت کے بعد سوشل میڈیا پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اب امریکہ اور ممکنہ طور پر وینزویلا سے تیل خریدے گا۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے ریوٹرز کو بتایا کہ امریکہ نے روسی تیل کی خریداری پر بھارت پر عائد اضافی 25 فیصد سزاوارانہ ٹیرف واپس لے لیا ہے، جو پہلے سے موجود 25 فیصد باہمی ٹیرف کے اوپر لگایا گیا تھا۔
اس اعلان کے بعد امریکہ میں درج بھارتی کمپنیوں کے شیئرز میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔ انفوسس کے شیئرز 4.3 فیصد، وپرو 6.8 فیصد جبکہ ایچ ڈی ایف سی بینک کے شیئرز 4.4 فیصد بڑھ گئے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے امریکہ سے بڑے پیمانے پر توانائی، کوئلہ، ٹیکنالوجی، زرعی اور دیگر مصنوعات خریدنے کا بھی عزم ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت امریکہ کے خلاف اپنے ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو بھی صفر تک لانے کی سمت بڑھے گا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا،
“صدر ٹرمپ سے بات کر کے خوشی ہوئی۔ میڈ اِن انڈیا مصنوعات پر ٹیرف 18 فیصد کرنے کے اعلان پر ہم شکر گزار ہیں۔ بھارت کے 1.4 ارب عوام کی جانب سے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔”
بھارت کے وزیر تجارت پیوش گوئل نے کہا کہ یہ معاہدہ بھارتی کسانوں، ایم ایس ایم ایز، کاروباری افراد اور ہنر مند افرادی قوت کے لیے غیر معمولی مواقع پیدا کرے گا اور بھارت کو امریکہ سے جدید ٹیکنالوجی کے حصول میں مدد ملے گی۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق یہ معاہدہ بھارت کو ایشیائی ممالک کے برابر لا کھڑا کرے گا، جہاں اوسط ٹیرف 15 سے 19 فیصد کے درمیان ہے، اور اس سے بھارتی برآمدات اور روپے پر پڑنے والا دباؤ کم ہوگا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال امریکہ نے روسی تیل کی خریداری کے باعث بھارت پر ٹیرف بڑھا کر 50 فیصد کر دیا تھا، جس سے بھارتی منڈیوں کو شدید نقصان پہنچا اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی۔






