امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 4 فروری:حکومت نے بدھ کے روز واضح کیا کہ وادیٔ کشمیر میں نئے مہاجر ٹرانزٹ کیمپ قائم کرنے کی فی الحال کوئی تجویز زیرِ غور نہیں ہے۔ تاہم حکومت نے بتایا کہ منظور شدہ رہائشی یونٹس میں سے 68 فیصد کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔
قانون ساز اسمبلی میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے حکومت نے کہا کہ وزیر اعظم پیکیج کے تحت تعینات کشمیری مہاجر ملازمین کے لیے رہائش کا انتظام عارضی کیمپوں کے بجائے مستقل رہائشی کمپلیکس کی صورت میں کیا جا رہا ہے، جو پی ایم ڈی پی-2015 کے تحت تعمیر ہو رہے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وادی میں مہاجر ملازمین کی رہائشی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 20 مقامات پر مجموعی طور پر 6,000 ٹرانزٹ رہائشی یونٹس منظور کیے گئے ہیں، جن میں سے 31 دسمبر 2025 تک 4,096 یونٹس کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔
شمالی کشمیر میں 1,368 یونٹس منظور کیے گئے تھے، جن میں سے 1,104 مکمل ہو چکے ہیں۔ اہم مقامات میں اوڈینہ، فتح پورہ، کولنگم اور نٹنوسہ شامل ہیں۔
وسطی کشمیر میں 1,608 یونٹس منصوبہ بند ہیں، جن میں سے 1,400 مکمل ہو چکے ہیں۔ نمایاں مقامات ککن مرن، شیخ پورہ، بابا دریادین، وندھامہ اور زیوان ہیں۔
جنوبی کشمیر میں 3,024 یونٹس منظور کیے گئے ہیں، جن میں سے اب تک 1,592 کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ اہم مقامات میں مچ بھون، رنبیرپورہ، شانگس، ویسو، چوک گام، میرہامہ، لیتھ پورہ اور الاؤپورہ شامل ہیں۔
حکومت نے مزید کہا کہ یہ رہائشی یونٹس منصوبہ بند کمپلیکس کی شکل میں تعمیر کیے جا رہے ہیں، جن میں بنیادی شہری سہولیات اور سیکورٹی انتظامات شامل ہوں گے، تاکہ مہاجر ملازمین کو محفوظ اور باوقار رہائشی ماحول فراہم کیا جا سکے۔






