امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 3 فروری : انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے بتایا کہ آج عصر کی نماز کے فوراً بعد پولیس نے اوقاف حکام کو تاریخی جامع مسجد سرینگر کے دروازے بند کرنے کی ہدایت دی اور شبِ برات کی مذہبی تقریبات کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اوقاف کے مطابق حکام کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ مسجد کو پوری رات بند رکھا جائے، حالانکہ اس مقدس موقع کے لیے پہلے سے تمام تیاریاں مکمل کی جا چکی تھیں۔
خبر رساں ایجنسی کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کو جاری ایک بیان میں انجمن اوقاف نے گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک اور اہم مذہبی موقع پر جامع مسجد میں اجتماعی عبادات ادا نہ ہو سکیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ میرواعظِ کشمیر مولوی عمر فاروق کو بدستور گھر میں نظر بند رکھا گیا ہے۔
انجمن اوقاف نے کہا کہ 2019 کے بعد سے جامع مسجد سرینگر میں بڑے مذہبی اجتماعات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جو عوام کے مذہبی حقوق میں صریح مداخلت کے مترادف ہے۔
دریں اثنا، میرواعظ عمر فاروق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا:
"جب اس مقدس رات پر پورے خطے کی مساجد عبادت سے منور ہیں، جامع مسجد سرینگر نگرانی میں بند ہے۔ ایک اور بندش، اور میں بدستور گھر میں نظر بند ہوں۔ 2019 کے بعد سے شبِ برات بھی ان مواقع کی فہرست میں شامل ہو گئی ہے جب وادی کی سب سے بڑی مسجد میں طاقت کے زور پر عبادت روکی گئی۔ نہ کوئی وجہ بتائی گئی، صرف بند دروازے اور خاموشی۔ جو لوگ ’نارملسی‘ اور ’نیا کشمیر‘ کے دعوے کرتے ہیں، انہیں اس تضاد کی وضاحت کرنی چاہیے۔”
انجمن اوقاف جامع مسجد نے حکام کے اس رویے کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس پالیسی پر نظر ثانی کی جائے اور مقدس مواقع پر تاریخی جامع مسجد میں پرامن مذہبی اجتماعات کی اجازت دی جائے۔(کے این ایس)





