امت نیوز ڈیسک //
جموں : جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے واضح کیا ہے کہ یونین ٹیریٹری میں کسی بھی نئے ایڈمنسٹریٹیو یونٹ (انتظامی اکائی) کے قیام کا فی الحال ان کی حکومت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت کی ترجیح ’’نئے یونٹس بنانے کے بجائے پہلے سے قائم انتظامی ڈھانچے کو مکمل طور پر فعال بنانا ہے۔‘‘
جموں کشمیر اسمبلی میں نیشنل کانفرنس (این سی) کے رکن سلمان ساگر کے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’ماضی میں قائم کیے گئے کئی ایڈمنسٹریٹیو یونٹ اب تک مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکے ہیں، اس لیے اس مرحلے پر نئے یونٹس بنانے کا فیصلہ مناسب نہیں ہوگا۔‘‘
سلمان ساگر نے سرینگر کی عیدگاہ اسمبلی نشست اور شمالی تحصیل کو تقسیم کر کے بژھ پورہ تحصیل کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔ اپنی مانگ کے لیے انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ ’’موجودہ تحصیلوں میں کام کر رہے عملہ کو آبادی کے ایک بڑے حصے کو خدمات فراہم کرنی ہوتی ہیں جن میں انہیں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘
اسی دوران نیشنل کانفرنس کے دیگر اراکین، تنویر صادق اور عبدالمجید لارمی نے بھی اپنے اپنے علاقوں میں نئی انتظامی اکائیوں کے قیام کا مطالبہ کیا، جبکہ کچھ دیگر اراکین نے اس موضوع پر اظہار خیال کے لیے وقت مانگا۔
تاہم وزیر اعلیٰ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مختلف اراکین اسمبلی کی جانب سے نئی انتظامی اکائیوں کے قیام سے متعلق سفارشات موصول ہو رہی ہیں، تاہم ان کی توجہ اس وقت موجودہ یونٹس کو فعال بنانے پر مرکوز ہے۔
عمر عبداللہ نے اسمبلی میں تصدیق کی گئی کہ پہلے سے قائم انتظامی یونٹس کے حوالہ سے انہیں بار بار شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ یونٹس کے پاس نہ تو مناسب عمارتیں ہیں اور نہ ہی مکمل عملہ۔ عمر کے مطابق ’’یہ مسائل حکومتی توجہ طلب ہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے یاد دلایا کہ سال 2013 میں جموں و کشمیر بھر میں تحصیلوں اور نیابتوں سمیت کئی انتظامی اکائیاں قائم کی گئی تھیں، جن میں سے متعدد کو آج بھی مکمل عملہ اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو قائم کی گئی ان اکائیوں کا حقیقی فائدہ پہنچ سکے۔





