امت نیوز ڈیسک //
میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جامع مسجد کے نواح شہام پورہ نوہٹہ اورچھتہ بل میں پیش آئے آتشزدگی کے ہولناک واردات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا، جس میں چھتہ بل میں10 اور شہام پورہ نوہٹہ میں12 رہائشی مکانات جل کر خاکستر ہوگئے اور کئی خاندان سخت سردی کے موسم میں بے گھر ہوگئے ہیں۔
میرواعظ نے کہا کہ اس موسمِ سرما میں شہر کے مختلف علاقوں میں آتشزدگی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ خصوصاً سردیوں کے دوران ہر ممکن احتیاط برتیں کیونکہ گرمی حاصل کرنے کے آلات کے زیادہ استعمال سے آگ لگنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
میرواعظ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ متعلقہ محکمے بالخصوص فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کو گنجان آباد علاقوں جیسے شہرِ خاص میں ایسے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے بہتر تیاری رکھنی چاہیے۔ گزشتہ شب کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوگیا تھا اور علاقے میں موجود کئی فائر ہائیڈرینٹس غیر فعال پائے گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فائر ہائیڈرینٹس کی باقاعدہ جانچ اور دیکھ بھال کی جائے تاکہ وہ ہر وقت قابلِ استعمال رہیں۔
میرواعظ نے فائر بریگیڈ کے عملے کی جرات اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اہلکار اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر عوام کی مدد کرتے ہیں، لیکن اگر انہیں مناسب آلات اور وافر مقدار میں پانی میسر نہ ہو تو وہ اپنی ذمہ داریاں مو ¿ثر طریقے سے کیسے انجام دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آگ پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جامع مسجد کے فوارے سے پانی نکالنا پڑا جس کے بعد صورتحال قابو میں آئی۔
نمازِ جمعہ کے بعد میرواعظ نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا۔ متاثرین سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون اور مدد کی یقین دہانی کرائی۔
میرواعظ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ شہام پورہ اورچھتہ بل کے ان افسوسناک واقعات کا فوری نوٹس لے اور آگ سے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن امداد اور سہولیات فراہم کرے۔
انہوں نے جامع مسجد کے منبر سے عوام سے بھی پُرزور اپیل کی کہ وہ آگے بڑھ کر متاثرہ خاندانوں کی مدد کریں اور ان کے گھروں کی دوبارہ تعمیر میں ہاتھ بٹائیں۔




