امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر پولیس کی انٹیلی جنس یونٹ نے ایک منظم سائبر کرائم گینگ کا پردہ فاش کرتے ہوئے سات افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد پر الزام ہے کہ وہ ملکی اور غیر ملکی شہریوں کو آن لائن دھوکہ دے رہے تھے اور کروڑوں روپے کے لین دین میں ملوث تھے۔
ایک سرکاری بیان کے مطابق، کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر (CIK) اور کرمنل انویسٹیگیشن ڈیپارٹمنٹ نے خفیہ کال سینٹرز کے ذریعے ہونے والی دھوکہ دہی کی اطلاع ملنے پر خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں۔ تحقیقات کے دوران نگرانی، ڈیجیٹل معلومات جمع کرنے اور مختلف مقامات کی جانچ کے بعد سرینگر کے مضافاتی علاقے رنگریٹھ کے انڈسٹریل ایریا میں ایک اہم مرکز کی نشاندہی کی گئی۔
چھاپے کے دوران سات ملزمان کو موقع پر گرفتار کیا گیا اور بڑی مقدار میں ڈیجیٹل اور مواصلاتی سامان ضبط کیا گیا، جن میں 13 موبائل فون، 9 لیپ ٹاپ، VoIP سسٹمز، سم کارڈز، نیٹ ورکنگ ڈیوائسز اور ڈیجیٹل اسٹوریج شامل ہیں۔ ملزمان کے خلاف دھوکہ دہی، مجرمانہ سازش اور آئی ٹی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پولیس بیان میں کہا گیا ہے کہ "ضبط شدہ مواد سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ایک منظم اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی جرائم پیشہ نیٹ ورک تھا۔”
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ملزمان ایک بڑے اور منظم سائبر کرائم نیٹ ورک کا حصہ تھے، جس کے روابط جموں و کشمیر سے باہر بھی پھیلے ہوئے ہیں۔ اس نیٹ ورک کا ایک حصہ خاص طور پر امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا جیسے ممالک کے لوگوں کو نشانہ بنانے کے لیے بنایا گیا تھا۔
ملزمان جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اپنی اصل شناخت اور مقام چھپاتے تھے، نفسیاتی چالوں اور جعلی شناخت کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دیتے تھے اور رقم کو ڈیجیٹل اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے منتقل کرتے تھے۔
انہوں نے VoIP سسٹم کے ذریعے ایک خفیہ اور غیر رجسٹرڈ کال سینٹر قائم کیا تھا، جس سے بین الاقوامی نمبرز بنائے جاتے تھے۔ وہ سرور روٹنگ اور سپوفنگ تکنیک کے ذریعے اپنی لوکیشن چھپاتے اور خود کو کسی جائز کمپنی یا سروس فراہم کرنے والے کے طور پر ظاہر کرتے تھے۔
حکام کے مطابق، جعلی YahooMail ویب سائٹ اور گوگل اشتہارات کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔ جیسے ہی کوئی شخص اشتہار پر کلک کرتا، اس کے سامنے ایک ٹول فری نمبر آتا، جس پر کال کرنے پر ملزمان لوگوں کو اپنے بینک اور ذاتی معلومات دینے پر آمادہ کرتے تھے۔ بعد میں یہ رقم مختلف اکاؤنٹس، بشمول فرضی اکاؤنٹس اور کرپٹو والیٹس (خاص طور پر USDT) میں منتقل کی جاتی تھی، تاکہ اصل ذریعہ چھپایا جا سکے۔
حکام نے کہا کہ اس پورے عمل میں نقد رقم کا استعمال نہیں ہوا، جو اس جرم کے مکمل ڈیجیٹل اور جدید ہونے کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ لین دین کروڑوں روپے تک پہنچ چکا ہے۔ جموں کشمیر پولیس کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں مزید تحقیقات جاری ہے اور مزید ملزمان کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ متاثرین اور مالی نیٹ ورک کی نشاندہی بھی کی جا رہی ہے۔






