امت نیوز ڈیسک //
جموں، 10 اپریل: نائب وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر سرندر چوہدری نے ڈائریکٹوریٹ آف مائننگ جموں کے دورے کے دوران اس بات پر شدید حیرت کا اظہار کیا کہ معطل یا تبادلہ شدہ افسران اب بھی دفتر میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے کی تحقیقات کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ بعض ایسے ملازمین، جنہیں سنگین الزامات کے تحت معطل کیا گیا تھا یا کشمیر منتقل کیا گیا تھا، انہیں جموں کے دفتر میں ڈیوٹی انجام دیتے پایا گیا۔ “میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جن افسران کو میں نے معطل کیا تھا وہ اب بھی ڈائریکٹر مائننگ کے دفتر میں کام کر رہے ہیں،” انہوں نے کہا۔
نائب وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ دورے کے دوران نہ تو ڈائریکٹر اور نہ ہی جوائنٹ ڈائریکٹر دفتر میں موجود تھے۔ ان کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ چیف سیکریٹری نے ایک میٹنگ طلب کی ہے، جس پر وہ خود سیکریٹریٹ جا کر معاملہ اٹھائیں گے۔
غیر قانونی کان کنی کے حوالے سے انہوں نے تسلیم کیا کہ محکمہ کی کمزوریوں کی وجہ سے یہ سرگرمیاں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “غیر قانونی کان کنی کچھ افسران کی وجہ سے ہو رہی ہے اور محکمہ میں خامیاں موجود ہیں۔”
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ غیر قانونی کان کنی کو ڈائریکٹوریٹ مائننگ جموں کے اندر سے سرپرستی حاصل ہو رہی ہے اور کہا کہ اس پورے معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔
انتظامی مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یونین ٹیریٹری نظام کا بعض افسران غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں، جس سے حکومت کی بدنامی ہو رہی ہے۔
آخر میں انہوں نے ڈائریکٹوریٹ کے حالات کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دفتر “فش مارکیٹ اور غیر قانونی کان کنی کا مرکز بن چکا ہے۔”






