امت نیوز ڈیسک //
جموں:جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کے روز “نشہ مکت جموں و کشمیر” مہم کا آغاز کرتے ہوئے منشیات فروشوں کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں پاسپورٹ، آدھار کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس کی منسوخی اور جائیداد کی ضبطی شامل ہے۔
ایم اے اسٹیڈیم جموں میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایل جی سنہا نے کہا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کا ناسور اب ہر گاؤں، ہر ضلع اور معاشرے کے ہر طبقے تک پھیل چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے منشیات کے نیٹ ورک کو مالی اور قانونی طور پر ختم کرنے کے لیے نیا اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (SOP) نافذ کیا ہے۔ اس کے تحت منشیات فروشوں کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں گے، مالی تحقیقات شروع ہوں گی اور ان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ضبط کی جائے گی۔
ایل جی نے مزید کہا کہ بڑے منشیات فروشوں کی شناخت پولیس اسٹیشن سطح پر ظاہر کی جائے گی تاکہ احتساب اور خوف پیدا کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ منشیات کی اسمگلنگ کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ہمسایہ ملک نوجوانوں کو تباہ کرنے کے لیے منشیات بھیج رہا ہے اور ہر کھیپ دراصل ہمارے مستقبل کے خلاف ایک ہتھیار ہے۔
منوج سنہا نے ہدایت دی کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بے گناہوں کو ہراساں نہ کریں لیکن مجرموں کو کسی صورت نہ چھوڑیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ 100 دن نہایت اہم ہیں، جن میں عوامی آگاہی مہم، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کونسلنگ، اور کمیونٹی کی سطح پر سرگرمیاں تیز کی جائیں گی۔
ایل جی نے خواتین، خصوصاً ماؤں اور بہنوں کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی آگاہی سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے نشہ کے عادی افراد کے علاج، کونسلنگ اور بحالی کے مراکز کے لیے نئے قواعد بھی جاری کیے ہیں تاکہ صرف معیاری اور مستند ادارے ہی کام کر سکیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا، جبکہ منشیات کے دھندے میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی جاری رہے گی۔






