یل
کپواڑہ، 15 اپریل: محبوبہ مفتی نے بدھ کے روز کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں حد بندی ناگزیر ہو چکی ہے، تاہم اس عمل کو منصفانہ اور شفاف طریقے سے انجام دیا جانا چاہیے۔
کپواڑہ میں ایک پارٹی تقریب کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چونکہ بھاجپا کو اکثریت حاصل ہے، اس لیے حد بندی کو روکا نہیں جا سکتا، لیکن عوام کو توقع ہے کہ یہ عمل انصاف کے ساتھ کیا جائے گا۔
انہوں نے پچھلی حد بندی کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ کچھ حلقوں کی تشکیل غیر منطقی اور “عجیب” انداز میں کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں کے بعض علاقوں میں کم ہندو آبادی والے علاقوں کو حلقوں میں شامل کیا گیا، جس سے اس عمل پر سوالات اٹھتے ہیں۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں “کمزور وزیر اعلیٰ” قرار دیا، حالانکہ انہیں بڑی تعداد میں ارکان کی حمایت حاصل ہے۔
مزید برآں، محبوبہ مفتی نے خطے میں نوجوانوں کے مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی نوجوان منشیات اور شراب نوشی کی لت میں مبتلا ہو رہے ہیں، اور بعض معاملات میں یہ صورتحال خودکشی تک پہنچ چکی ہے۔





