امت نیوز ڈیسک //
جموں، 15 اپریل: جموں و کشمیر میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جموں و کشمیر یونیورسٹیز بل 2026 کو منظوری دے دی ہے، جس کے بعد خطے میں پہلی بار نجی یونیورسٹیوں کے قیام کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
یہ بل 4 اپریل کو بجٹ اجلاس کے آخری دن اسمبلی سے متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا۔ اب حکومت نجی یونیورسٹیوں کے قیام کے لیے قواعد و ضوابط تیار کرے گی، جس کے بعد باضابطہ طور پر منظوریوں کا عمل شروع ہوگا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، کئی ادارے پہلے ہی نجی یونیورسٹیاں قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں اور اپنی تجاویز بھی پیش کی ہیں، تاہم انہیں قواعد کی تیاری اور ماہر کمیٹی کے قیام تک انتظار کرنے کو کہا گیا ہے۔
قانون کے مطابق، درخواست گزار اداروں کو اپنی تجویز کے ساتھ وژن، تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ اور زیادہ سے زیادہ 25 لاکھ روپے کی ناقابل واپسی فیس جمع کرانی ہوگی۔ صرف وہی ادارے اہل ہوں گے جو کم از کم تین سال سے رجسٹرڈ ہوں، تعلیم ان کا بنیادی مقصد ہو، مالی طور پر مستحکم ہوں اور مناسب زمین و بنیادی ڈھانچہ رکھتے ہوں۔
حکومت ایک ماہر کمیٹی تشکیل دے گی جس کی سربراہی سیکریٹری ہائر ایجوکیشن کریں گے، جو درخواستوں کا جائزہ لے گی۔ اس کے علاوہ ایک ریگولیٹری اتھارٹی بھی قائم کی جائے گی جو نجی یونیورسٹیوں کی نگرانی کرے گی اور انہیں یو جی سی سمیت دیگر قواعد پر عملدرآمد کا پابند بنائے گی۔
یہ یونیورسٹیاں جموں و کشمیر میں اپنے مرکزی کیمپس کے ساتھ یونٹری ماڈل پر قائم ہوں گی، جبکہ انہیں علاقائی مراکز، کالجز اور دیگر کیمپس قائم کرنے کی بھی اجازت ہوگی۔
یہ بل وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے اسمبلی میں پیش کیا تھا، جسے وزیر اعلیٰ نے سراہا تھا۔
دریں اثنا، لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر جن وشواس دوسرا ترمیمی بل 2026 کو بھی منظوری دی ہے، جس کا مقصد معمولی نوعیت کے جرائم کو غیر مجرمانہ بنانا، کاروباری بوجھ کم کرنا اور خطے میں کاروبار و زندگی کو آسان بنانا ہے۔ اس قانون کے تحت 18 مختلف ایکٹس میں ترمیم کی جائے گی۔






