امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی : انجینئر رشید کے والد خواجہ محمد شیخ کی طبیعت انتہائی نازک ہونے کے باعث سری نگر کے اسپتال میں زیر علاج ہیں، جس کے بعد ان کی رہائی کے مطالبات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ عوامی اتحاد پارٹی کے ترجمان کے مطابق رشید کے والد کی حالت مسلسل بگڑ رہی ہے اور انہیں انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں منتقل کیا گیا ہے۔ خاندان اس وقت شدید ذہنی اذیت سے گزر رہا ہے، جبکہ رشید کی طویل قید نے اس کرب میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
کشمیر کے معروف مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اسپتال جا کر عیادت کی اور حکومت سے اپیل کی کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رشید کو رہا کیا جائے تاکہ وہ اپنے والد سے ممکنہ آخری ملاقات کر سکیں۔ اسی طرح سیاسی رہنما بلال لون نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی۔
ادھر لوک سبھا میں خطاب کے دوران انجینئر رشید جذباتی ہو گئے اور کہا کہ قید و بند کی کوئی بھی سزا انہیں جموں و کشمیر کے عوام کی آواز اٹھانے سے نہیں روک سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے وہ اپنے والد کو آخری بار نہ دیکھ سکیں، وہ گزشتہ 20 دنوں سے ہسپتال میں داخل ہیں۔ یہ ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ بات ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں موجودہ نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سچ بولنے والوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن وہ ہر حال میں اپنے مؤقف پر قائم رہیں گے۔
انہوں نے کہاکہ "اگر میں 100 بار جنم لوں اور مجھے 100 بار جیل میں ڈال دیا جائے، تب بھی میں اپنی آخری سانس تک جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے بات کرتا رہوں گا۔” رکن پارلیمنٹ نے الزام لگایا کہ نظام ہر اس شخص کو سزا دینا چاہتا ہے جس میں سچ بولنے کی ہمت ہے، چاہے وہ جیل کے اندر ہو یا باہر۔ انہوں نے اس موقع پر اپنی والدہ، بہن، بیٹی، بھابھی اور اہلیہ کو تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ’میں تمہیں قسم دیتا ہوں، امید مت ہارنا، ہمت مت ہارنا‘۔
ایم پی ایر رشید نے جموں و کشمیر میں حد بندی کی مشق پر بھی سوال اٹھائے اور انہوں نے خواتین تحفظات بل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہندوستان ایک سپر پاور بن جائے، تو ہمیں خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق اقدامات کرنے چاہئے”
واضح رہے کہ انجینئر رشید گزشتہ پانچ برس سے نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ انہیں 2019 میں این آئی اے نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا تھا، جو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت درج ہے۔




