امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی :وزیراعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پر جاری بحث کے دوران اس بل کو ایک تاریخی اور اہم اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ اس معاملے کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے کیونکہ یہ ملک کی جمہوریت کی کامیابی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ لمحہ ملک کی نصف آبادی یعنی خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے کا ایک سنہری موقع ہے۔ ان کے مطابق ترقی یافتہ بھارت صرف معاشی ترقی اور بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں بلکہ اس میں خواتین کی بھرپور شمولیت بھی شامل ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ بل 25 سے 30 سال پہلے منظور ہو جانا چاہیے تھا، تاہم اب بھی وقت ہے کہ اسے عملی شکل دی جائے۔ مودی نے کہا کہ ماضی میں اس بل کو مختلف سیاسی اور تکنیکی وجوہات کی بنا پر روکا گیا، لیکن اب مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اگر کوئی اس بل کا کریڈٹ لینا چاہتا ہے تو وہ اس کے لیے بھی تیار ہیں۔ ان کے الفاظ میں، “میں آپ کو خالی چیک دیتا ہوں، آپ کریڈٹ لے لیں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں، یہ جمہوریت کی جیت ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ خواتین میں سیاسی شعور تیزی سے بڑھ رہا ہے اور وہ اپنے حقوق کے لیے فعال کردار ادا کر رہی ہیں، خاص طور پر پنچایت سطح پر منتخب خواتین اب قومی سطح پر بھی نمائندگی چاہتی ہیں۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ یہ فیصلہ کسی ایک جماعت کی کامیابی نہیں بلکہ پورے ملک کی جمہوریت کی فتح ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو جماعتیں اس کی مخالفت کریں گی انہیں آئندہ انتخابات میں سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ خواتین کو ریزرویشن دینا کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا آئینی حق ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ انہیں ملک کی ترقی میں برابر کا شریک بنایا جائے۔





