امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 27 اپریل: جموں و کشمیر انتظامیہ نے ضلع شاپیاں کے امام صاحب علاقے میں واقع دارالعلوم جامعہ سراج العلوم کو غیر قانونی ادارہ قرار دے دیا ہے۔ یہ اقدام یو اے پی اے کے تحت کیا گیا۔
سرکاری حکم کے مطابق ڈویژنل کمشنر کشمیر انشل گرگ نے دفعہ 8(1) کے تحت یہ فیصلہ سنایا، جس میں ادارے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق ادارے کے خلاف پولیس کی رپورٹ میں سنگین قانونی، انتظامی اور مالی بے ضابطگیوں، مشتبہ مالی لین دین اور زمین کے معاملات میں خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی۔ اس کے علاوہ ادارے کے مبینہ روابط کالعدم تنظیم جماعت اسلامی سے بھی جوڑے گئے ہیں۔
حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ادارے میں ایسے ماحول کے فروغ کے شواہد ملے ہیں جو انتہاپسندی کو بڑھاوا دے سکتا ہے، جبکہ کچھ سابق طلبہ کے ملی ٹنٹ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق ادارے کو شوکاز نوٹس دے کر وضاحت کا موقع دیا گیا، تاہم اس کی وضاحت کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا۔
اس فیصلے کے بعد متعلقہ حکام کو ادارے کی عمارت سیل کرنے اور مالی اثاثے منجمد کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا ہے، جبکہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں مزید کارروائی متوقع ہے۔






