امت نیوز ڈیسک //
تہران: ایران نے امریکہ کو جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجویز پیش کردی۔ اس تجویز میں ایران کو جوہری معاملے پر بعد میں مذاکرات کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ نئی تجویز پاکستان کی ثالثی کے ذریعے واشنگٹن کو پیش کی گئی۔ یہ اسٹریٹجک آبی گزرگاہ اور امریکی بحری ناکہ بندی کے بحران کو حل کرنے پر مرکوز ہے۔
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکہ کو بھیجے گئے نئے معاہدے کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے۔ اس آبنائے کی بندش نے توانائی کے عالمی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ نئے معاہدے کے تحت جنگ بندی کو طویل مدت کے لیے بڑھایا جائے گا یا تہران اور واشنگٹن دشمنی کو مستقل طور پر ختم کرنے پر رضامند ہو جائیں گے۔
ایکسیوز کی رپورٹ کے مطابق جوہری مذاکرات بعد کے مرحلے میں شامل کیے جائیں گے، جب کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کو ہٹانے کا عمل بیک وقت شروع ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کو یہ تجویز موصول ہوئی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ اس نئے معاہدے پر غور کرے گی۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے ایکسیوز (Axios) کو بتایا کہ امریکہ پریس کے ذریعے ایسے "حساس سفارتی” معاملات پر بات نہیں کرے گا۔
امریکہ نے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس تمام طاقت ہے اور وہ صرف ایک ایسے معاہدے پر عمل کرے گا جو امریکی عوام کو اولیت دیتا ہے اور ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ نئی تجویز ٹرمپ کی جانب سے امن مذاکرات کے نئے دور کے لیے اپنے ایلچی کا دورۂ پاکستان منسوخ کرنے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پاکستان چھوڑنے کے بعد امریکی حکام نے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور جیرڈ کشنر کے اسلام آباد کے دورے منسوخ کر دیے۔ جب خود ٹرمپ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں انہیں 18 گھنٹے کی فلائٹ پر بھیجنا کوئی معنی نہیں رکھتا جو کہ بہت طویل سفر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سفر ایک بہت زیادہ وقت طلب عمل ہے۔






