امت نیوز ڈیسک //
کولکاتا: مغربی بنگال کی سیاست میں ایک بڑا آئینی اور سیاسی موڑ اس وقت سامنے آیا جب گورنر آر این روی نے ریاستی اسمبلی تحلیل کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی جانب سے استعفیٰ دینے سے انکار کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا، جس نے ریاست میں جاری سیاسی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
گورنر کی جانب سے جاری ایک مختصر مگر اہم حکم نامے میں کہا گیا کہ آئین ہند کے آرٹیکل 174 کی شق (2)(b) کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مغربی بنگال قانون ساز اسمبلی کو 7 مئی 2026 سے تحلیل کیا جاتا ہے۔ اس اعلان کے بعد ریاست میں سیاسی سرگرمیوں میں زبردست تیزی آگئی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ممتا بنرجی کی جانب سے استعفیٰ نہ دینا ایک بڑی سیاسی حکمت عملی تصور کی جا رہی تھی، تاہم گورنر کے اس اقدام نے ان کی اس چال کو ناکام بنا دیا۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی غیرمعمولی کامیابی کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل پہلے ہی بڑھ چکی تھی۔
بی جے پی رہنماؤں نے اسمبلی تحلیل کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں جمہوری اقدار کی بحالی ضروری تھی۔ دوسری جانب ترنمول کانگریس نے اسے سیاسی انتقام قرار دیا اور کہا کہ عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی گئی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق ممتا بنرجی جلد ہی اپنی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کر سکتی ہیں۔
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ گورنر کے پاس اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیارات موجود ہیں، لیکن ایسے فیصلے ہمیشہ سیاسی تنازع کا سبب بنتے ہیں۔





