مہنگائی غریب کی کمر توڑ دیتی ہے۔ یہ صرف قیمتوں میں اضافہ نہیں، یہ ایک مسلسل دباؤ ہے جو انسان کی سوچ، فیصلوں اور زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتا ہے۔ جب ضروریات زندگی مہنگی ہو جائیں تو ایک مجبور انسان کے ذہن میں بے شمار سوالات اٹھتے ہیں۔ وہ بار بار سوچتا ہے کہاں سے خریدوں، کیسے خریدوں، کیا لوں اور کیا چھوڑ دوں۔
بازار میں قدم رکھتے ہی اس کی پریشانی بڑھ جاتی ہے۔ وہ سستا ڈھونڈنے کے لیے ایک دکان سے دوسری دکان جاتا ہے، مگر ہر جگہ قیمتیں بلند ملتی ہیں۔ تھکن صرف جسم کی نہیں ہوتی، دل بھی بوجھل ہو جاتا ہے۔ ایک طرف بے روزگاری کا مسئلہ ہے،دوسری طرف مہنگائی کی شدت۔ یہ دونوں مل کر ایک غریب انسان کی زندگی کو مشکل بنا دیتے ہیں۔
ایک غریب ہی جانتا ہے کہ ذمہ داریوں کا بوجھ کیا ہوتا ہے۔ گھر کے اخراجات، بچوں کی تعلیم، علاج، روزمرہ کی ضروریات، سب کچھ ایک محدود آمدنی میں پورا کرنا آسان نہیں۔ اکثر اس کی خواہشات دل میں ہی رہ جاتی ہیں۔ کئی خواب مہنگائی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ وہ خاموشی سے سب کچھ برداشت کرتا ہے اور دل ہی دل میں اپنے رب سے فریاد کرتا ہے، کیونکہ اس کے پاس اللہ کے سوا کوئی سہارا نہیں ہوتا۔
قرآن ہمیں صبر اور ثابت قدمی کا درس دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ بندوں کو خوف، بھوک اور مال کی کمی سے آزماتا ہے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دیتا ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ مہنگائی بھی ایک آزمائش ہے۔ اس میں ثابت قدم رہنا اور اللہ پر بھروسا رکھنا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔
احادیث میں بھی غریبوں اور ضرورت مندوں کا خاص خیال رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص کامل مومن نہیں جس کا پڑوسی بھوکا ہو اور وہ خود پیٹ بھر کر سو جائے۔ یہ تعلیم ہمیں اپنے معاشرے کی ذمہ داری یاد دلاتی ہے۔
کبھی کبھی مجبوری انسان کو غلط راستوں کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ ایسے فیصلے کر بیٹھتا ہے جو ایمان کے خلاف ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان ہر حال میں صبر اور تقویٰ کو تھامے رکھے۔ رزق دینے والا اللہ ہے۔ حلال راستہ اختیار کرنا مشکل ہو سکتا ہے، مگر یہی راستہ سکون اور برکت دیتا ہے۔
حالات حاضرہ میں مہنگائی نے بے روزگاری کے ساتھ مل کر مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔ نوجوان تعلیم کے باوجود روزگار سے محروم ہیں۔ گھروں میں آمدنی کم ہے اور اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایک باپ دن رات محنت کرتا ہے، مگر پھر بھی بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی حالات معاشرتی بے چینی کو جنم دیتے ہیں۔
ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے اردگرد ضرورت مندوں کا خیال رکھیں۔ اپنی استطاعت کے مطابق مدد کریں۔ اپنی آمدنی کا ایک حصہ صدقہ کے لیے مخصوص کریں۔ قریبی مستحق افراد کی خاموشی سے مدد کریں۔ فضول خرچی کم کریں اور بچت کو دوسروں کے کام میں لائیں۔ چھوٹے اقدامات بھی بڑے اثرات پیدا کرتے ہیں۔
اللہ نے حقوق العباد پر بہت زور دیا ہے۔ ایک دن ہر انسان سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال ہوگا۔ مہنگائی ایک آزمائش ہے، مگر یہ ہمیں انسانیت بھولنے کی اجازت نہیں دیتی۔ جب معاشرہ ایک دوسرے کا سہارا بنتا ہے تو مشکلات کم ہو جاتی ہیں۔ یہی احساس ذمہ داری ایک مضبوط اور باوقار معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔







