• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, مئی ۱, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
قرآن حکیم کی تعلیمات میں ہی انسانی مسائل کا حل

قرآن حکیم کی تعلیمات میں ہی انسانی مسائل کا حل

وانی مشتاق/دانگام شوپیاں

by امت ڈیسک
01/05/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

سورہ یونس،،آیت 58 میں ارشاد باری ہے کہ” اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہو کہ یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز (قرآن)اس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے یہ ان سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں””۔ قرآن مجید ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس کا اطلاق زندگی کے ہر شعبے میں ہوتا ہے۔ اس کتاب مبین میں ہر کام یعنی سلام وکلام، اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا، چلنا پھرنا، کھانا پینا، دوستی اور رشتہ داری، ملازمت و تجارت، معیشت و معاشرت وغیرہ کا ٹھیک ٹھیک درس دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو مشکلات، حادثات، مصایب وآلام اور آفات سے نجات دلا سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ہمیں اپنے اخلاق، کردار، سیرت، شخصیت، رویہ، چال و چلن، طرظ عمل، نقطہ نظر، انداز نظر، انداز فکر، خصایل، فطرت اور ذہنیت میں بدلاؤ لانا ہوگا۔ اب یہاں یہ سوال بھی ذہن میں آسکتا ہے کہ ایسے پر آشوب اور پر فتن دور میں ہماری رہنمائی اور رہبری کون کر سکتا ہے تو اس کے لئے "رجوع الی القرآن” سب سے بہترین طریقہ بھی ہے اور علاج بھی۔ ہمیں صبر و صلوٰۃ، دعا اور صدقات سے مدد لینی چاہیے کیونکہ قرآن کریم اس کا حل یوں بیان کرتا ہے۔۔ ” اے ایمان والو! صبر اور نماز ( صلوات) سے مدد حاصل کرو بلا شبہ حق تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔ ( سورہ البقرہ: آیت: 153) ۔

جب سے یہ دنیا وجود میں آئی ہے خالقِ کائنات رب العزت نے اس کا صحیح انتظام چلانے کے لئے حضرت آدم علیہ السلام اور بنی نوع آدم کی تخلیق کا آغاز کیا۔ دنیا کا نظام صحیح طریقے سے چلانے کے لئے اللہ بزرگ و برتر نے حضرت آدم سے لیکر نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک اپنے نیک، پاکباز، پاک سیرت، عظیم المرتبت انسانوں کو مبعوث فرمایا۔ خدا کے ان چنیدہ اور خاص بندوں کا کام دنیا میں بسنے اور رہنے والوں کے لیے اللہ کا پیغام پہنچانا ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف ادوار میں رسولوں اور نبیوں کو آسمانی کتابوں اور نسخوں کے ساتھ لوگوں کی رہنمائی ؤ رہبری کے لئے مبعوث فرمایا۔ ان کتابوں میں اللہ تعالیٰ کے واضح قوانین لوگوں کے لئے مشعل راہ کا کام کرتے تھے لیکن تواریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ ایک قلیل تعداد کے ماسوا انسانوں کی کثیر تعداد نے خدا کے اصولوں اور قاعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ تورات، انجیل اور زبور جیسی الہامی کتابوں میں لوگوں نے انحراف کیا اور ان میں من گھڑت کہانیوں کو داخل کیا۔ جو چیز ان کو اپنے نفس کے خلاف محسوس ہوتی تھی اسے رد کرتے اور غیر معقول قرار دیتے۔ الغرض یہ کہ یہ کتابیں اپنی اصلی ہیت میں نہ رہیں لہذا منسوخ کر دی گئیں۔

آخر کار اللہ عزوجل نے ایک مظبوط، مربوط اور مستقل انتظام کے تحت ایک مکمل، مفصل، جامع اور مجمل نسخۂ کیمیا قرآن مجید کا نزول شروع کیا۔ اس کام کو انجام دینے کے لئے عظیم المرتبت، صاحب قرآن، خاتم النبیین اور انسان کامل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چنا گیا اور یہ چناو خالقِ کائنات، زمان و مکان کے مالک اللہ رب العزت نے خود کیا۔ یہ بات ڈھنکے کی چوٹ پر کہی جا سکتی ہے کہ قرآن حکیم میں ہی دنیائے مسائل ومصائب کا حل ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں بلکہ ببانگ دہل کہی جا سکتی ہے کہ قرآن کریم دنیائے مسائل کا حل لے کر آیا اور یہ ثابت کر دیا کہ عرب دنیا جو ایک زمانے میں براییوں کا اڑہ بن چکا تھا وہی عرب امن، آشتی، بھائی چارے، انسان دوستی، خدا پرستی اور آخرت پسندی کی مثال بن کے رہ گیا۔ حضور پر نور نے قرآن کے ذریعے ایک مختصر مدت ( صرف 23 سال) میں پورے سر زمین عرب کا نقشہ بدل کے رکھ دیا۔ غرض یہ کہ جس چیز کی ہمیں اشد اور انتہائی ضرورت ہے وہ یہی دستور حیات یعنی کہ قرآن حکیم ہے۔ ہمیں اپنی طرف سے حتی الامکان کوشش کرنی چاہئے کہ قانون باری تعالیٰ کو اپناییں اور اللہ کے دکھایے ہوئے راستہ یعنی دین اسلام پر چل کر اپنے آپ کی اصلاح کریں اور سماج کو بدلیں۔

ہم اللہ سے کوسوں دور جا چکے ہیں اور ہم نے قرآن اور اسلامی شریعت کو بھلا دیا ہے۔ امت مسلمہ اپنی ذمہ داریوں کو بھول چکی ہے اور اصلاح کے کام کو ترک کیا ہے۔ مسلمان ہونے کے ناطے” امر بالمعروف ونہی عن المنکر” ( لوگوں کو نیک کاموں کی طرف دعوت دینا اور برے کاموں سے روکنا) ہمارا فریضہ ہے۔ ( آل عمران ١١٠) ۔ لمحہ فکریہ ہے کہ آجکل ہر انسان مفاد عامہ کے بجائے ذاتی مفادات کے بارے میں زیادہ سوچتا ہے۔ ہمیں باری تعالیٰ کے معاشرتی قانون سے با خبر رہنے کے ساتھ ساتھ اسے اپنانا بھی چاہیے۔ ہمیں اپنے آپ میں بدلاؤ لانا ہوگا، اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ دوسروں کی اصلاح کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔ قرآن حکیم میں یوں درج ہے ( "” واقعی اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت میں تغیر نہیں لاتا جب تک وہ لوگ خود اپنی حالت کو نہیں بدل دیتے۔””” سورہ الرعد۔۔۔ آیت ١١) ۔۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

اب براہ راست چلے گی سرینگر سے جموں ٹرین

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

وادیِ کشمیر کے مرجھائے پھول: منشیات کی ‘خاموش تباہی

وادیِ کشمیر کے مرجھائے پھول: منشیات کی ‘خاموش تباہی

17/04/2026
مشرقی وسطیٰ کے کشیدہ حالات : کشمیرکی دستکاری صنعت کو لگا دھچکا

نشہ مُکت بھارت امید کی کرن

17/04/2026
مشرقی وسطیٰ کے کشیدہ حالات : کشمیرکی دستکاری صنعت کو لگا دھچکا

حضرتشیخ داؤد ریشی (المعروف بتہ مول) رحمتہ اللہ علیہ وادی میں یکساں مقبول ہیں

17/04/2026
انتخابی مہم کی  سیاسی نفسیات اور  بنکھو وزیر اعلیٰ گانا

100 روزہ سفر نشے کے خلاف عزم، اور نئی زندگی کی جانب ایک روشن قدم

17/04/2026
احساس و ہمدردی سے عاری لوگ

آدابِ عامہ اور حق الطریق: ایک مطالعہ

10/04/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

بے چینی کی زہریلی لہریں چہار سو: وجوہات، تدارک اور مستقبل

10/04/2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »