کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جو طویل عرصے سے سیاسی بے یقینی، سماجی انتشار اور معاشی کمزوریوں کا شکار ہے۔ ان حالات میں غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کا کردار نہایت کلیدی ہونا چاہیے تھا تاکہ وہ ریاستی کمزوریوں کو پورا کرتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود میں عملی حصہ ڈالیں۔ تاہم، زمینی حقائق اس تصور کے برعکس ایک تشویشناک تصویر پیش کرتے ہیں، جہاں این جی اوز کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ تو ہوا ہے مگر ان کی کارکردگی، شفافیت اور اثر پذیری انتہائی محدود دکھائی دیتی ہے۔
سب سے پہلے، اگر اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو کشمیر میں رجسٹرڈ این جی اوز کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ یہ تنظیمیں مختلف شعبوں جیسے تعلیم، صحت، خواتین کی ترقی، یتیموں کی کفالت، ہنر مندی کی تربیت اور ہنگامی امداد کے دعوے کرتی ہیں۔ لیکن جب ان دعوؤں کو زمینی سطح پر پرکھا جاتا ہے تو صورتحال مایوس کن نظر آتی ہے۔ دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان، اسکولوں کی حالت زار، اور صحت کے مراکز کی کمی اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ این جی اوز اپنی ذمہ داریوں کو مؤثر طریقے سے ادا نہیں کر رہیں۔
اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ فنڈنگ کا غیر شفاف نظام ہے۔ متعدد این جی اوز بیرونی ڈونرز، بین الاقوامی اداروں اور حکومتی گرانٹس سے مالی معاونت حاصل کرتی ہیں۔ اصولی طور پر ان فنڈز کو عوامی فلاحی منصوبوں پر خرچ ہونا چاہیے، مگر حقیقت میں ان کا بڑا حصہ انتظامی اخراجات، نمائشی سرگرمیوں اور بعض اوقات ذاتی مفادات کی نذر ہو جاتا ہے۔ آڈٹ کا مؤثر نظام نہ ہونے کے باعث مالی بے ضابطگیوں کو روکنا مشکل ہو گیا ہے۔
مزید برآں، این جی اوز کے قیام کا عمل بھی اکثر سنجیدگی سے عاری ہوتا ہے۔ کئی تنظیمیں محض رجسٹریشن تک محدود رہتی ہیں، جن کا کوئی فعال دفتر، مستقل عملہ یا واضح پروگرام نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ایک ہی فرد یا محدود گروہ مختلف ناموں سے کئی تنظیمیں رجسٹر کروا لیتے ہیں تاکہ مختلف ذرائع سے فنڈز حاصل کیے جا سکیں۔ یہ رجحان نہ صرف بدعنوانی کو فروغ دیتا ہے بلکہ اصل خدمت گزار اداروں کی ساکھ کو بھی متاثر کرتا ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ کشمیر میں کام کرنے والی این جی اوز کے درمیان کوئی مؤثر رابطہ یا اشتراک عمل موجود نہیں۔ نتیجتاً ایک ہی علاقے یا مسئلے پر کئی تنظیمیں بیک وقت کام کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں جبکہ دیگر اہم شعبے مکمل طور پر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ اس سے وسائل کا ضیاع اور کام کی غیر مساوی تقسیم پیدا ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ، مقامی کمیونٹی کی شمولیت کا فقدان بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ بہت سی این جی اوز اپنے منصوبے مقامی ضروریات اور ترجیحات کو سمجھے بغیر ترتیب دیتی ہیں۔ عوامی مشاورت نہ ہونے کے باعث یہ منصوبے پائیدار نتائج دینے میں ناکام رہتے ہیں۔ کامیاب فلاحی کام کے لیے ضروری ہے کہ مقامی افراد کو منصوبہ بندی اور عملدرآمد دونوں مراحل میں شامل کیا جائے۔
ان تمام مسائل کے حل کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے، حکومت کو این جی اوز کے لیے ایک جامع اور سخت ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دینا ہوگا، جس میں رجسٹریشن سے لے کر فنڈز کے استعمال تک ہر مرحلے کی نگرانی شامل ہو۔ باقاعدہ آڈٹ، سالانہ کارکردگی رپورٹ اور عوامی سطح پر معلومات کی فراہمی کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب، این جی اوز کو خود احتسابی کا نظام اپنانا ہوگا۔ انہیں اپنے مالی معاملات، منصوبوں اور نتائج کو شفاف بنانا چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی اس حوالے سے فعال کردار ادا کرنا ہوگا، تاکہ بدعنوانی اور نااہلی کو بے نقاب کیا جا سکے۔
یہ کہنا بجا ہوگا کہ کشمیر میں این جی اوز کی موجودگی بذات خود کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ ان کی غیر مؤثر کارکردگی اصل تشویش کا باعث ہے۔ اگر نیت میں خلوص، نظام میں شفافیت اور حکمت عملی میں سنجیدگی پیدا کی جائے تو یہی این جی اوز کشمیر کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ بصورت دیگر، یہ محض کاغذی ادارے بن کر رہ جائیں گی جو عوامی اعتماد کو مزید مجروح کریں گی۔





