امت نیوز ڈیسک //
اننت ناگ: جموں وکشمیر کے ضلع اننت ناگ میں سو روز پر مشتمل نشہ مُکت جموں کشمیر ابھیان کے تناظر میں جموں کشمیر یُوٹی کے لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت میں اننت ناگ میں ‘پد یاترا’ نکالی گئی،پیدل مارچ شہید ہمایوں مزمل میموریل ڈگری کالج بائز کھنہ سے کے پی چوک تک نکالی گئی ۔مارچ میں اسکولی بچوں، سرکاری ملازمین، سول سوسائٹی گروپس اور سیاسی کارکنوں سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
ایل جی منوج سنہا کی قیادت میں نکالے گئے اس مارچ میں ضلع ترقیاتی کمشنر اننت ناگ ،ایس ایس پی اننت ناگ ڈی آئی جی سمیت کئی سرکردہ سیاسی رہنما شامل تھے۔ مارچ کے پیش نظر جموں و کشمیر پولیس نے سکیورٹی کے وسیع انتظامات کئے وہیں بازار بھی بند رکھے گئے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے تقریب کے دوران سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ اُن ماؤں کے درد کو بخوبی محسوس کرتے ہیں جنہوں نے منشیات کی لعنت کے سبب اپنے بچوں کی زندگیاں تباہ ہوتے دیکھی ہیں، جبکہ کئی خاندان ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنے لختِ جگر ہمیشہ کے لیے کھو دیے۔ انہوں نے کہا کہ خوف یا سماجی دباؤ کے باعث یہ متاثرہ خاندان خاموش تھے، تاہم حکومت نے اس مہم کے ذریعے اُن کی خاموشی توڑنے اور سماج کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایل جی کے مطابق عوام خصوصاً نوجوانوں کی بھرپور شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ لوگ جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے سنجیدہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے شروع کیے گئے نشہ مکت بھارت ابھیان کو آگے بڑھاتے ہوئے جموں و کشمیر میں 100 روزہ نشہ مکت جموں کشمیر مہم کا آغاز کیا گیا تاکہ نوجوان نسل کو منشیات کی وبا سے محفوظ رکھا جا سکے اور ایک صحت مند و خوشحال معاشرہ تشکیل دیا جائے۔ اگرچہ سو دنوں میں مکمل طور پر منشیات سے پاک سماج قائم کرنا آسان نہیں، تاہم اس مہم کے ذریعے اس لعنت کے خاتمے میں نمایاں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے منشیات کے استعمال کے خلاف چلائی جا رہی اس مہم کی تعریف کی۔ ایل جی نے کہا کہ "اس مہم نے منشیات کے استعمال کے خلاف بیداری پیدا کی ہے اور پولیس کی کارروائی اس لعنت کو معاشرے سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے مستعدی سے کام کر رہی ہے۔
اس موقع پر موجود نوجوانوں اور دیگر شرکاء نے بھی حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ مہم نئی نسل کو تباہی سے بچانے اور سماج کو منشیات سے پاک کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی، اور اسے اُس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک منشیات کا مکمل خاتمہ ممکن نہ ہو جائے۔
واضح رہے کہ جموں کشمیر میں مہم کے آغاز کے دوران ایل جی نے کہا تھا کہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جائے گا۔ ایل جی نے واضح کیا کہ منشیات فروشی بھی دہشت گردی سے کم نہیں اور اس میں ملوث افراد کو سخت سزا دی جائے گی، انہوں نے پولیس کو ہدایت دی کہ ہر تھانے کی حدود میں سرکردہ منشیات فروشوں کی نشاندہی کر کے 30 دن کے اندر ان کے نیٹ ورک کو ختم کیا جائے۔ ایل جی نے کہا کہ ایک دشمن ملک نوجوانوں کو نشانہ بنانے کے لئے منشیات کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، تاہم حکومت اور سکیورٹی فورسز اس طرح کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے پوری طرح متحرک ہے۔





