امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 22 مئی: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کشمیری پنڈت کارکنان کے خلاف درج ایف آئی آر پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے گھر مہاجر خاندانوں کے راشن اور ریلیف فوائد کو نیشنل فوڈ سیکورٹی ایکٹ کے تحت لانے کے خلاف اٹھائی گئی آوازوں کو جرم قرار دینا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
اپنے ایک بیان میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیری پنڈت برادری کے خدشات حقیقی ہیں، کیونکہ دہائیوں سے بے دخلی، غیر یقینی صورتحال اور ذہنی اذیت جھیلنے والی اس برادری کی ایک الگ شناخت اور مہاجر حیثیت رہی ہے، جسے ماضی کی حکومتوں نے بھی تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں برادری کو ہمدردی اور سنجیدہ بات چیت کی ضرورت ہے، نہ کہ انہیں خوفزدہ کرنے یا مجرمانہ کارروائیوں کا سامنا کرانے کی۔
انہوں نے کہا کہ پُرامن احتجاج کو جرم کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، خاص طور پر جب لوگ اپنی بقا، باز آبادکاری اور قانونی تحفظات سے متعلق خدشات ظاہر کر رہے ہوں۔ محبوبہ مفتی کے مطابق کئی کشمیری پنڈت تنظیموں نے مہاجرین کے راشن کو NFSA کے دائرے میں لانے کی مخالفت کی ہے، کیونکہ انہیں اندیشہ ہے کہ اس سے ان کی مخصوص مہاجر شناخت کمزور ہو سکتی ہے اور 1990 کی دہائی میں وادی سے بے دخل ہونے والے خاندانوں کے لیے قائم خصوصی ریلیف اور باز آبادکاری نظام متاثر ہو سکتا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ اس حساس معاملے کو پولیس کارروائی کے بجائے بات چیت اور اعتماد سازی کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “کشمیری پنڈتوں کا درد اور ان کی بے دخلی ایک حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان سے متعلق کسی بھی پالیسی فیصلے سے پہلے برادری سے بامعنی مشاورت ضروری ہے۔”
محبوبہ مفتی نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ درج ایف آئی آر واپس لی جائے اور کشمیری پنڈت نمائندوں کے ساتھ شفاف مذاکرات شروع کیے جائیں تاکہ این ایف ایس اے سے متعلق خدشات کا قابل قبول حل نکالا جا سکے۔





