امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 29 مئی 2026: بارہمولہ کے رکنِ پارلیمنٹ انجینئر رشید کے آبائی گھر، ماور لنگیٹ (ضلع کپواڑہ) میں جمعرات کو مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ارکانِ پارلیمنٹ اور سیاسی رہنماؤں کے ایک وفد نے دورہ کیا۔ وفد نے انجینئر رشید کے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
وفد میں بہار کے رکنِ پارلیمنٹ سدھاکر سنگھ، اُمیش بہوبھائی پٹیل اور دیگر سیاسی رہنما شامل تھے۔ وفد نے اہلِ خانہ، عوامی اتحاد پارٹی کے رہنماؤں اور وہاں موجود مقامی لوگوں سے ملاقات کی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفد کے ارکان نے کہا کہ ملک بھر میں ایسے لوگ موجود ہیں جو جموں و کشمیر کے عوام کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن اور مفاہمت کے لیے جمہوری عمل اور سنجیدہ مذاکرات ناگزیر ہیں۔
وفد کی قیادت کرنے والے رکنِ پارلیمنٹ سدھاکر سنگھ نے کہا کہ کشمیر کے عوام نے طویل عرصے تک مشکلات اور مصائب کا سامنا کیا ہے، اس لیے ان کی آواز کو سنجیدگی، احترام اور وقار کے ساتھ سنا جانا چاہیے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر کے سیاسی اور انسانی حقوق کے مسائل پر انجینئر رشید کی مسلسل آواز اٹھانے کی بھی تعریف کی۔
سدھاکر سنگھ نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ بامعنی رابطے کی کمی احساسِ بیگانگی کو مزید بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انجینئر رشید کی مسلسل قید نئی دہلی اور کشمیر کے درمیان رابطے کے پل کو کمزور کر رہی ہے اور مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے تاکہ وہ اپنے ووٹروں کی نمائندگی جاری رکھ سکیں۔
وفد نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے بھی ملاقات کی اور یقین دلایا کہ ہندوستان کے عوام کشمیریوں کے دشمن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی اور جموں و کشمیر کے عوام کے درمیان تعلقات کی بنیاد بننے والے تمام وعدوں اور معاہدوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔
وفد نے آخر میں جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات اور شکایات کے حل کے لیے مذاکرات، مفاہمت اور جمہوری شمولیت کی ضرورت پر زور دیا۔





