سرینگر، 31 مئی: شوپیان سے آزاد رکن اسمبلی شبیر احمد کلے نے موجودہ انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے مبینہ بیک ڈور بھرتیوں اور مالی بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شبیراحمد کلے نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے مبینہ غیر قانونی تقرریوں اور رقم کے لین دین کے معاملے اے سی بی میں شکایت درج کرائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیک ڈور بھرتیوں کا ایک بڑا گھوٹالہ چل رہا ہے اور ان کے پاس اس سلسلے میں دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ ان کے مطابق اس معاملے میں پیسوں کا لین دین بھی ہوا ہے۔
ایم ایل اے نے الزام لگایا کہ ضلع شوپیان کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا جا رہا ہے اور ترقیاتی و انتظامی جائزہ اجلاس وہاں منعقد نہیں کیے جا رہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ جائزہ اجلاس پلوامہ میں منعقد کیا گیا جبکہ شوپیان کے منتخب عوامی نمائندوں کو مدعو نہیں کیا گیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اجلاس میں نیشنل کانفرنس کے کارکنان اور شکست خوردہ امیدوار موجود تھے، جس کے باعث یہ سرکاری اجلاس کے بجائے ایک سیاسی اجتماع محسوس ہو رہا تھا۔
شبیراحمد کلے نے مزید کہا کہ حکمران جماعت کے کئی ارکان اسمبلی بھی حکومتی فیصلوں میں مؤثر کردار ادا نہیں کر پا رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی منوج سنہا سے ملاقات کرکے انتظامی امور میں مبینہ خامیوں اور اپنی شکایات سے آگاہ کریں گے۔
ایم ایل اے نے زور دیا کہ حکومت کو ادارہ جاتی طریقہ کار کے مطابق چلایا جانا چاہیے اور تمام منتخب نمائندوں کو مساوی طور پر فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے۔





