امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: اپوزیشن جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے منگل کو جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس (این سی) کی قیادت والی حکومت کی جانب سے آؤٹ سورسنگ کے ذریعے سرکاری ملازمتوں کی مبینہ تقسیم کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پی ڈی پی یوتھ لیڈر ظہیب میر نے الزام عائد کیا کہ "نیشنل کانفرنس حکومت نے اپنے 20 ماہ کے دورِ اقتدار میں 25 ہزار ملازمتیں اپنے رشتہ داروں اور کارکنوں میں تقسیم کی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ "یہ ملازمتیں کسی اشتہار یا باضابطہ نوٹیفکیشن کے بغیر دی گئیں۔” ان کے مطابق ان نوکریوں کے لیے واحد اہلیت یہ تھی کہ امیدوار کسی نیشنل کانفرنس رہنما کا رشتہ دار ہو، اس کا کارکن ہو یا رشوت دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان بے روزگار ہیں لیکن انہیں ان ملازمتوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔
ظہیب میر نے کہا کہ "اگر اس معاملے پر خاموشی اختیار کی گئی تو حکومت اپنے باقی تین سالہ دور میں مزید 75 ہزار نوکریاں تقسیم کر کے بعد میں ایک لاکھ روزگار فراہم کرنے کا وعدہ پورا کرنے کا دعویٰ کرے گی۔”
میر اور دیگر پی ڈی پی رہنماؤں نے سرینگر میں احتجاج بھی کیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ اپوزیشن نے ان ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "بھرتی کا پورا عمل خفیہ انداز میں اور بیک ڈور سے انجام دیا گیا، جبکہ کوئی اشتہار جاری نہیں کیا گیا۔”
ظہیب میر نے وزیر صحت و تعلیم سکینہ ایتو کے ایک بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں کہا گیا کہ محکمہ صحت میں 6 ہزار ملازمتیں دی گئی ہیں۔ پی ڈی پی کے جنرل سیکریٹری اور سابق ایم ایل سی خورشید عالم نے کہا کہ عمر عبداللہ کی زیر قیادت حکومت کی واحد کامیابی یہ ہے کہ اس نے اہل نوجوانوں سے روزگار کے مواقع چھین کر آؤٹ سورسنگ کے ذریعے اپنے کارکنوں میں تقسیم کیے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے بدعنوانی کو ایک منظم نظام کی شکل دے دی ہے۔
اس ہفتے کے آغاز میں جموں و کشمیر کی بڑی اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھی کہا تھا کہ ان ملازمتوں میں بھرتی کا عمل شفاف اور منصفانہ ہونا چاہیے تھا۔ اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے کہا کہ بی جے پی آؤٹ سورسنگ کے خلاف مہم چلائے گی۔
رپورٹس کے مطابق جموں و کشمیر حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ نے سرکاری اسپتالوں میں صفائی اور سکیورٹی عملے، ڈیٹا انٹری آپریٹروں، باغبانی معاونین اور 27 دیگر محکموں میں 25 ہزار سے زائد اسامیاں آؤٹ سورس کی ہیں۔ یہ عارضی اور معاہداتی تقرریاں ایک سال کے لیے ہیں جن کی مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ ان بھرتیوں کے لیے جموں و کشمیر، گجرات، اتر پردیش اور نئی دہلی کی 200 سے زائد نجی کمپنیوں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔





