امت نیوز ڈیسک /
سرینگر: کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمان ششی تھرور کے حالیہ دورۂ کشمیر اور جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کے بعد کشمیر میں "معمول کے حالات” سے متعلق ان کے بیان پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ ان کے اس بیان پر نہ صرف سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی بلکہ انہیں اپنی ہی جماعت کے بعض رہنماؤں کی تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
لیفٹینننٹ گورنر سے ملاقات کے بعد ششی تھرور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ سرینگر میں ان کی منوج سنہا کے ساتھ ایک بہترین ملاقات رہی، جس میں جموں و کشمیر کی صورتحال اور معمول کے حالات کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات کے وقت لیفٹیننٹ گورنر کشمیری رائٹرز ایسوسی ایشن اور خواتین کی ایک تنظیم کے نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے، جسے انہوں نے مثبت رابطہ قرار دیا۔ تھرور نے کہا کہ اگرچہ اب بھی کئی چیلنجز موجود ہیں اور بہت کچھ کیا جانا باقی ہے، لیکن وہ اس ملاقات کے بعد کافی عرصے کے مقابلے میں زیادہ مثبت احساسات کے ساتھ واپس لوٹے۔
تھرور کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جموں و کشمیر کانگریس کے چیف ترجمان رویندر شرما نے کہا کہ انہیں زمینی حقائق جاننے کے لیے عام لوگوں سے بھی ملاقات کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے لوگ بھی توقع کر رہے تھے کہ وہ ان سے مل کر حالات کا بہتر اندازہ لگائیں گے۔ شرما نے یہ بھی کہا کہ کم از کم انہیں اپنی ہی پارٹی کے کارکنوں سے ملنے کے لیے وقت نکالنا چاہیے تھا جو گزشتہ سات برسوں سے ریاستی درجے کی بحالی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار اور مصنف پروین ساہنی نے بھی تھرور کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کشمیر کی صورتحال کو سمجھنا ہے تو سول سوسائٹی سے بات کرنی چاہیے، بشرطیکہ لوگ کھل کر بات کرنے پر آمادہ ہوں۔ ساہنی نے دعویٰ کیا کہ وہ حال ہی میں وادی سے واپس آئے ہیں اور زمینی حالات سے واقف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کو سمجھنے کے لیے صرف سرکاری حکام سے ملاقات کافی نہیں اور تھرور کو عام لوگوں کی خدمت کے معاملے میں راہل گاندھی سے سبق لینا چاہیے۔
اسٹوڈنٹ لیڈڑ ناصر کھوہامی نے بھی ششی تھرور کے دورے پر مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر صرف علامتی دوروں اور پہلے سے طے شدہ ملاقاتوں سے زیادہ کا مستحق ہے۔ ان کے مطابق ایک ایسے پارلیمنٹ رکن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان لوگوں سے بھی بامعنی گفتگو کرے جن کی آوازیں مسلسل نظر انداز کی جاتی رہی ہیں۔
دوسری جانب ایکس پر بعض صارفین نے ششی تھرور کی تعریف بھی کی۔ ایک صارف راجیو نے انہیں کانگریس کا واحد حقیقی محب وطن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ذہانت، غیر جانبداری اور مؤثر اظہارِ خیال کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں ہونا چاہیے، چاہے وہ اس کی ہر پالیسی سے متفق نہ ہوں۔
ششی تھرور اس وقت پارلیمنٹ کی خارجہ امور سے متعلق آٹھ رکنی کمیٹی کے سربراہ ہیں، جو جموں و کشمیر اور لداخ کے مطالعاتی دورے پر ہے۔ کمیٹی کے دیگر ارکان میں اسد الدین اویسی، ارون گوول، سناتن پانڈے، اروند گنپت، متیش پٹیل، وجے باگل اور کے ایل لکشمن شامل ہیں۔ اگرچہ کمیٹی کا باضابطہ دورہ آج سے شروع ہو کر 25 جون تک جاری رہے گا، تاہم تھرور چند روز قبل ہی کشمیر پہنچ گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق کمیٹی جموں، سرینگر، لیہہ اور کرگل کا دورہ کرے گی۔ اس دوران ارکان پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی)کے علاوہ مشرقی لداخ میں چین کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے نزدیک واقع دیہات کا بھی دورہ کریں گے تاکہ زمینی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 20 جون کو پارلیمنٹ ہاؤس اینکس میں وزارت خارجہ نے کمیٹی کو پاکستان اور چین کے ساتھ بھارت کے تعلقات سے متعلق اہم امور پر بریفنگ دی تھی، جس میں جموں و کشمیر اور لداخ سے متعلق معاملات پر خصوصی توجہ دی گئی۔






