امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 24 جون: سرینگر میں بدھ کے روز آٹھویں محرم الحرام کا روایتی جلوس اپنے تاریخی راستے پر نکالا گیا، جس میں ہزاروں شیعہ عزاداروں نے شرکت کی۔ انتظامیہ کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد یہ جلوس 2023 میں بحال ہونے والی روایت کے تسلسل میں منعقد کیا گیا، جو تین دہائیوں سے زائد عرصے تک پابندی کا شکار رہی تھی۔
جلوس گرو بازار سے شروع ہوا اور بڈ شاہ کدل اور ایم اے روڈ سے ہوتا ہوا ڈل گیٹ کی جانب روانہ ہوا۔ جلوس کے دوران عزاداروں نے حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کی یاد میں نوحہ خوانی اور مرثیہ خوانی کی، جبکہ مختلف مقامات پر ماتم بھی کیا گیا۔
مردوں، خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے جلوس میں شرکت کی۔ وادی کے مختلف اضلاع سے عقیدت مند سرینگر پہنچے تاکہ اس مذہبی اجتماع کا حصہ بن سکیں۔
ایک عزادار نے کہا کہ ’’ہم برسوں سے اس جلوس کو اس کے تاریخی راستے پر واپس دیکھنے کے منتظر تھے۔ اس میں شرکت ہمارے ایمان کے ساتھ ساتھ ہماری تاریخ اور ثقافت سے جذباتی وابستگی کا بھی اظہار ہے۔‘‘
ایک اور شریکِ جلوس نے کہا کہ کربلا کا پیغام قربانی، حق اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے اور اس تاریخی جلوس میں شرکت ان کے لیے باعثِ سعادت ہے۔
واضح رہے کہ آٹھویں محرم کا یہ جلوس تین دہائیوں سے زائد عرصے تک پابندی کا شکار رہا، تاہم 2023 میں اسے دوبارہ اپنے روایتی راستے پر نکالنے کی اجازت دی گئی۔ تب سے ہر سال ہزاروں عزادار اس جلوس میں شرکت کر رہے ہیں۔
جلوس کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے سخت سیکورٹی، ٹریفک اور طبی سہولیات کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ راستے بھر میں سرکاری اہلکار اور رضاکار تعینات رہے جو عزاداروں کی رہنمائی اور سہولت فراہم کرتے رہے۔
آخری اطلاعات موصول ہونے تک جلوس ڈل گیٹ کی جانب رواں دواں تھا، جہاں دن کے اختتام پر اس کے اختتام پذیر ہونے کی توقع تھی۔





